اسلام آباد(آئی پی ایس)وفاقی وزیر منصوبہ بندی وترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ ملک میں سیاسی و معاشی استحکام کیلئے اپوزیشن کو مثبت یو ٹرن لےکر اسمبلی میں آنا چاہیے، معاشی بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں ،کوئی یہ سمجھے کہ 6، 7 ماہ میں معیشت ڈوب سکتی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔اسلام آباد میں 7ویں خانہ و مردم شماری اور ماسٹرز ٹرینرز ٹریننگ سیشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران احسن اقبال نے کہا کہ ریاست اس وقت تک ذمہ داریاں ادا نہیں کرسکتی جب تک مکمل ڈیٹا نہ ہو، ریاست کے پاس افراد کے اعداد وشمار نہ ہوں تو ترقی ممکن نہیں۔

 

وفاقی وزیر نے کہا کہ مردم شماری کے ذریعے این ایف سی سمیت قومی وسائل اور سیاسی نمائندگی کی تقسیم کا فیصلہ ہوتا ہے، ملک میں پہلی دفعہ ڈیجیٹل مردم شماری کی جارہی ہے، جس پر 34 ارب روپے خرچ ہوں گے۔احسن اقبال نے مزید کہا کہ پاکستان کی آبادی میں اضافہ تیزی سے ہو رہا ہے، پاکستان کے وسائل میں کمی اور آبادی بے قابو ہورہی ہے، آبادی کا تناسب ایسا رہا تو 2050 تک پاکستان کی آبادی 34 کروڑ تک ہوگی، آبادی کنٹرول کرنے سے دین خطرے میں نہیں پڑتا۔وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ اگست 2023 تک اسمبلی کی مدت پوری ہوگی، سیلاب سے متاثرہ سندھ اور بلوچستان میں 6 سے 8 ماہ الیکشن نہیں کروا سکتے، اپریل تک ملک میں مردم شماری ہوگی پھر 4 ماہ الیکشن کمیشن کوحلقہ بندیوں کے لئے درکار ہوں گے۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ معاشی بحران ہمارا پیدا کردہ نہیں ہے، اپوزیشن الیکشن کے نعرے لگا رہی ہے، آزاد کشمیر کے نتائج نے ان کی تسلی کردی ہوگی۔ ملک اندرونی اور بیرونی مالی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اپوزیشن کو مثبت یو ٹرن لےکر اسمبلی میں آنا چاہیے، کوئی یہ سمجھے کہ 6، 7 ماہ میں معیشت ڈوب سکتی ہے تو یہ اس کی بھول ہے۔