
افغانستان کے صوبہ لوگر میںافغان جنگ کے شہدا کی یاد اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے یادگاری مسجد کی تعمیر شروع ،زیر تعمیر مسجد میں محفل میلاد کا انعقاد ، مذہبی، ممتاز رہنماں اور مقامی منتظمین سمیت 1200 سے زائد مقامی افراد نے شرکت کی،معصوم شہدا کی روحوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق لوگر ایک اسٹریٹجک صوبہ ہے، جسے ”جہاد جنگ کا دروازہ” کہا جاتا ہے۔ چنانچہ یہ شہدا اور شہدا کی قبروں کے لیے مشہور ہے۔ دارالحکومت کابل کو ملانے والی مین روڈ پر ضلع محمد آغا کے شہرعیسی خیل میں افغان جنگ کے معصوم شہدا کی یاد اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ایک مسجد تعمیر جا رہی ہے۔ اس مسجد کو ”افغان جنگ کے معصوم شہدا کی یادگار مسجد” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ مسجد معصوم شہدا کے خاندانوں کو ان کے بچوں کی تعلیم کا پلیٹ فارم فراہم کرے گی اور ان کو مناسب ملازمتیں تلاش کرنے اور ان کی بنیادی ضروریات زندگی کی تکمیل میں مدد فراہم کرے گی۔ میلاد شریف کی مناسبت سے مسجد میں ایک بڑی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب میں کئی نامور اور اہم رہنماں نے شرکت کی۔ معصوم شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کی گئی۔ تقریب میں صوبہ بھر سے 1200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔تقریب میںمعصوم شہدا کی روحوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور اس کے ساتھ ہی قرآن پاک کی تلاوت اور نعتیہ اشعار پڑھے گئے ۔ افغانستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کی گئیں۔ تمام مقرر ین نے تمام مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اتحاد کے ذریعے ہم افغانستان میں امن قائم کر سکتے ہیں اور مستقبل میں تمام غیر ملکی حملوں کو دور رکھ سکتے ہیں۔تقریب میں شعبہ قرآن و حدیث کے انچارج، جامعہ راشدیہ کے ڈین احمد گل راشدی ،اسلامی ثقافت کے شعبے کے ڈائریکٹر اور ڈین شفیق الامینی، لوگر یونیورسٹی کے منتظم مولانا تور گل، ڈین نص وکیہ یونیورسٹی مولانا خیر اللہ ، اسلامی امور کے ڈائریکٹر ابو ناف محمد ، امارات اسلامیہ طالبان کے ایگزیکٹو محمد ولی حمص ، مساجد و مدارس کے رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر،اختیار احمد تبلیسی پورے افغانستان سے 100 سے ز ائد اعلی اسلامی اسکالرز سمیت 1200 سے زائد افراد نے شرکت کی۔





