پاکستان

بھارت کی بحرہند پر راج اور ہندوتوا کی سوچ ساحلی ریاستوں کیلئے بڑا چیلنج

اسلام آباد(آئی پی ایس) میری ٹائم آفیئر (این آئی ایم اے ) ، اسلام آباد کے انڈین اوشن اسٹڈی سنٹر نے انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے تعاون سے’’سمندری حدود میں ہندوستان کے عزائم اور خطے میں اس کے دوررس اثرات” کے عنوان پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا ہے ،جس میں ائیر مارشل (ر) فاروق حبیب ستارہ امتیاز (ملٹری) ،ڈاکٹررضوانہ عباسی اورسید محمد علی نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

این آئی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل، وائس ایڈمرل (ر ) عبدالعلیم ،ستارہ امتیاز (ملٹری)، نے سیمینار میں شرکت کر نے والے مقررین اور شرکا ء کا خیر مقدم کیا اور سمندر حدود میں ہندوستان کے عزائم اور خطے میں اس کے دور رس اثرات” کے حوالے سے سیمینار کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ سیدمحمدعلی نے نے بحر ہند کی لبر لائزیشن،ماڈرنائزیشن اوراربنائزیشن کے میں بتایا۔

ایئرمارشل (ر)فاروق حبیب (HI(M نے کہا کہ خوف ، مفادات اور وقار آئی او ر میں انڈین میری ٹائم مفادات کے پالیسی کارڈینلز ہیں ۔ ڈاکٹر رضوانہ عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ ایشیائی صدی ایک حقیقت ہے ۔ مشرقی یورپ میں روس کا اثر ورسوخ بڑھ رہا ہے، جبکہ چین ،امریکہ اور بھارت بحر ہند میں غلبہ حاصل کر ر ہیں ۔صدرآئی آر ایس سفیر ندیم ریاض نے سیشن کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمیشہ بحر ہند کو ” بھارت کا سمندر ” سمجھتا ہے اور خودکو امریکہ کی حمایت یافتہ نیٹ سیکیورٹی کا فراہم کنندہ سمجھتا ہے جو کہ آئی اوآرسمندری ماحول کی حقیقت کے خلاف ہے اور مجموعی طور پر خطے کر اسٹریٹجک مفادات کے بھی خلاف ہے ۔ بھارت کا بحر ہند پر راج کرنے کاارادہ اور اس کی ہندوتوا سوچ نہ صرف پاکستان بلکہ آئی او آر کی ساحلی ریاستوں کیلئے بھی بڑا چیلنج ہے ۔

سیمینار میں ماہرین تعلیم، پیشہ ورافراد، یو نیورسٹیوں کے طلبہ تھنک ٹینکس کے محققین اور پالیسی سازوں نے بھر پور شرکت کی ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker