
بیجنگ :جاپان کے سابق سیلف ڈیفنس فورسز کے اہلکار کودائی موراتا کی جاپان میں چین کے سفارت خانے میں زبردستی داخل ہونے کے واقعے سے متعلق ٹوکیو ڈسٹرکٹ کورٹ میں مقامی وقت کے مطابق یکم اکتوبر کو مقدمے کی پہلی کھلی سماعت ہوئی۔ مدعا علیہ کودائی موراتا نے فردِ جرم میں عائد بعض الزامات سے انکار کیا۔ اس نے عمارت میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے اور اسلحہ و چاقو سے متعلق قانون کی خلاف ورزی کے الزامات کو تسلیم کیا، تاہم سفارت خانے کے عملے کو دھمکانے کے الزام سے انکار کیا۔رواں سال 24 مارچ کو کودائی موراتا نے چاقو کے ساتھ ٹوکیو میں واقع چین کے سفارت خانے کی دیوار پھاند کر احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی ، جہاں اس نے چینی سفارتی اہلکاروں کو قتل کرنے کی دھمکی دی۔ بعد ازاں اسے پولیس نے گرفتار کر لیا۔ جاپانی استغاثہ نے اس کے خلاف عمارت میں غیر قانونی داخلے اور سفارت خانے کے عملے کو دھمکانے سمیت مختلف الزامات کے تحت مقدمہ دائر کیا۔چین کے سفارت خانے نے اس واقعے پر جاپان سے سخت احتجاج کرتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا اور جاپان سے ذمہ دارانہ وضاحت پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ تاہم جاپان نے صرف کا اظہار کیا اور معذرت نہیں کی۔





