بین الاقوامی

نیتن یاہو کا اقوام متحدہ سے خطاب میں اپنے دفاع کی کوشش، مندوبین واک آؤٹ کر گئے

اسرائیلی وزیر اعظم کے اقوام متحدہ کی 81 ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کے بعد نیویارک میں مظاہرین بنیامین نیتن یاہو کا پتلا اٹھائے اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ (فوٹو: رائٹرز)
اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں غزہ جنگ اور خطے میں اسرائیل کی کارروائیوں کا دفاع کرنے کی بھرپور کوشش کی، تاہم ان کی تقریر کے دوران درجنوں ممالک کے مندوبین احتجاجاً اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔

نیویارک میں ہونے والی تقریر کے دوران نیتن یاہو نے اسرائیل پر بڑھتی ہوئی عالمی تنقید اور سفارتی تنہائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے (فلسطینیوں کی) نسل کشی نہیں کی بلکہ اس نے نسل کشی ہونے سے روکی۔

نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر ہی درجنوں مندوبین احتجاجاً ہال سے باہر نکل گئے، جس پر اسرائیلی وزیر اعظم نے انہیں ’اخلاقی طور پر بزدل‘ قرار دیا۔ دوسری جانب گیلری میں موجود ان کے حامیوں نے عبرانی زبان میں ’اسرائیل کے لوگ زندہ ہیں‘ کے نعرے لگائے۔

نیتن یاہو نے تقریباً 40 منٹ تک خطاب کیا، جو اقوام متحدہ میں کی گی تقریر سے زیادہ انتخابی مہم کے دوران کسی جلسے میں کیے جانے والے خطاب کا انداز لیے ہوئے تھا۔ اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے ہیں اور رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کا سیاسی اتحاد اپنے حریفوں سے پیچھے ہے۔

ان کے دفتر کے مطابق خطاب سے قبل اسرائیلی حکومت نے مین ہٹن میں اسرائیل کے حق اور ایران کے خلاف 500 بل بورڈز اور درجنوں ٹرکوں پر پیغامات آویزاں کرنے کے لیے رقم خرچ کی۔

‘آپ سچ کو خاموش نہیں کرا سکتے’
نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جنہوں نے انہیں جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے۔ “آپ نے مجھے یہاں آنے سے روکنے کی کوشش کی، آپ نے مجھے خاموش کرنے کی کوشش کی، لیکن آپ مجھے خاموش نہیں کرا سکتے۔ آپ سچ کو خاموش نہیں کرا سکتے۔”

ممدانی نے انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اگر نیتن یاہو نیویارک آئے تو وہ مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں انہیں گرفتار کرائیں گے، تاہم بعد میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی اختیار نہیں۔

اس ہفتے ممدانی نے نیتن یاہو کو ’فلسطینیوں کی ہولناک نسل کشی کا معمار‘ قرار دیا تھا۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا، “ایک سادہ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے نسل کشی نہیں کی، اسرائیل نے نسل کشی کو روکا ہے۔”

ممدانی نے ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں فلسطینیوں کی ’نسل کشی کو جائز دکھانے کے لیے بے بنیاد جھوٹ‘ دہرائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی جھوٹ اس حقیقت کو تبدیل نہیں کرسکتا کہ نیتن یاہو عالمی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات شامل ہیں۔

انہوں نے ممدانی پر حماس کے جنگجوؤں کی حمایت کا الزام بھی عائد کیا، جس کی ممدانی تردید کر چکے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے مغربی یورپی رہنماؤں پر بھی الزام لگایا کہ وہ ’یہود مخالف ہجوم‘ کے دباؤ میں آ گئے ہیں۔

انہوں نے قطر اور ترکیہ پر بھی اسرائیل کے خلاف جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

تاہم قطر نے اسرائیل کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے کے الزام کو مسترد کیا۔ قطری وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر جاری ایک بیان میں کہا کہ نیتن یاہو کی دوحہ کے خلاف بار بار تنقید کا مقصد زمینی پالیسیوں کی ذمہ داری سے توجہ ہٹانا ہے۔

اس کے علاوہ نیتن یاہو نے اسرائیل کی جانب سے بیک وقت 7 محاذوں پر لڑنے کا ذکر کیا، جن میں فروری کے اواخر میں امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں سے شروع ہونے والی ایران کے ساتھ جنگ بھی شامل ہے۔

انہوں نے اپنی تقریر کے دوران ماضی کی طرح چند اشیا بھی بطور مثال پیش کیں۔ نیتن یاہو نے ایک پیجر اٹھایا جسے لبنان میں ایران نواز حزب اللہ کے ارکان کو ہلاک اور زخمی کرنے والے حملے سے منسلک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا ایک آلہ بھی دکھایا اور کہا کہ وہ اسے ایرانی وفد کے لیے چھوڑ جائیں گے تاکہ ’جب وہ ڈیفیکٹ کر جائیں تو وہ سوشل میڈیا پر آزادانہ طور پر اپنی کہانی بیان کرسکیں۔‘

انہوں نے پیش گوئی کی کہ کوئی وقت ہو گا کہ ایرانی عوام اس حکومت کو بے دخل کر دیں گے۔

نیویارک کی سڑکوں پر احتجاج
دوسری جانب اقوام متحدہ کے قریب نیویارک کی سڑکوں پر بھی احتجاج ہوا، جہاں سینکڑوں مظاہرین جمع ہوئے۔ درجنوں افراد نے ٹریفک روک کر ’اسرائیل کو ہتھیار دینا بند کرو، غزہ کو زندہ رہنے دو‘ اور ’اسرائیل کو ہتھیار دینا بند کرو، ایران کو زندہ رہنے دو‘ کے نعرے لگائے، جس پر پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لیا۔

نیتن یاہو مختصر دورے پر امریکہ پہنچے تھے اور اس مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی کوئی ملاقات طے نہیں تھی۔ تاہم انہوں نے تقریر میں ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی ریاست کا دفاع اور ’فتح‘ جاری رکھے گا کیونکہ اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

انہوں نے کہا، ’بربریت کے خلاف اس جنگ میں ہمارے پاس صدر ٹرمپ سے بڑا کوئی شراکت دار نہیں رہا۔‘

اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا
غزہ میں حماس کے زیر قیادت حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے جنگ شروع کیے جانے کے تقریباً 3 سال بعد اسے بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔

عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے 2024 میں نیتن یاہو، ان کے اس وقت کے وزیر دفاع اور حماس کے اس وقت کے فوجی کمانڈر کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری ہونے کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم کئی ممالک کا سفر نہیں کرسکتے۔

اس ماہ کے آغاز میں اسرائیل کے دیرینہ اتحادی برطانیہ، فرانس اور کینیڈا نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے خلاف پابندیوں کا اعلان کیا تھا، جس پر واشنگٹن کا ردعمل محدود رہا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ ان ممالک کے رہنماؤں نے ’یہود مخالف ہجوم‘ کے سامنے جھکنے، کمزوری اور مصلحت پسندی کا راستہ اختیار کیا ہے۔

انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کو بھی کم اہمیت دیتے ہوئے کہا کہ یہ تقریباً 150 ’کم عمر شرارتی نوجوانوں‘ کا معاملہ ہے جو پتھر پھینکتے اور زیتون کے درخت کاٹتے ہیں۔

نیتن یاہو نے کہا، ’کبھی کبھار وہ آگ بھی لگا دیتے ہیں۔ میں اسے برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی برداشت کروں گا۔ ہم قانون کی پاسداری کرنے والا ملک ہیں۔‘

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker