
واشنگٹن: ایران جنگ کے باعث امریکی میزائل دفاعی ذخائر پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ تھاڈ اور پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخائر 2030 تک بھی انتہائی کم سطح پر رہنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایران جنگ سے تقریباً دو ماہ قبل سابق امریکی آرمی چیف جنرل رینڈی جارج نے بھی امریکی انتظامیہ کو دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر میں ممکنہ قلت سے خبردار کیا تھا۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق امریکا کے پاس 2026 کے آغاز میں تقریباً 2,300 پیٹریاٹ انٹرسیپٹرز موجود تھے، جن میں سے ایران جنگ کے دوران اندازاً 1,050 سے 1,430 تک استعمال کئے جا چکے ہیں، جنگ سے قبل امریکا کے پاس تقریباً 355 تھاڈ انٹرسیپٹرز تھے، جن میں سے 190 سے 290 تک استعمال ہونے کی اطلاع ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی دفاعی ذخائر میں کمی کی وجوہات میں ایران جنگ کے علاوہ یوکرین اور اسرائیل کو دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی بھی شامل ہے، اس صورتِ حال کے باعث امریکی فوج کیلئے جدید میزائل دفاعی نظام کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح پر لانا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔
سی بی ایس نیوز کے مطابق جنرل رینڈی جارج کی جانب سے دفاعی ذخائر سے متعلق پیش کردہ جائزہ پینٹاگون کے مالی سال 2027 کے گلوبل فورس مینجمنٹ پلان میں بھی شامل تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے ایران جنگ شروع ہونے کے بعد جنرل رینڈی جارج کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔
دوسری جانب پینٹاگون نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں قلت سے متعلق دعوؤں کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کے پاس کسی بھی وقت اور کسی بھی مقام پر کارروائی کیلئے درکار ہتھیار موجود ہیں۔





