
تہران: ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے امریکا کو پیغامات اور شرائط سے آگاہ کیا ہے۔
پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ جنگ کی باتیں تو کی جاتی ہیں، لیکن اس کے حتمی اور مؤثر خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل یا طریقہ کار موجود نہیں ہوتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہمیں بیک وقت لڑنا بھی چاہئے اور مذاکرات بھی کرنے چاہئیں، تہران اپنے دشمنوں کو پیچھے دھکیلنے کے لیے فوجی طاقت استعمال کرے گا، جبکہ مناسب وقت آنے پر میدانِ جنگ میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کے لیے سفارت کاری سے کام لے گا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے پیغامات کی ترسیل اور دوسرے فریق کے سامنے اپنی شرائط کی وضاحت کر دی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب تک ایران کی پیشگی شرائط پوری نہیں ہو جاتیں، اس وقت تک مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اعلان کیا تھا کہ تہران نے قطر اور پاکستان کے ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کے لیے اپنی شرائط امریکا تک پہنچا دی ہیں اور اب وہ صدر ٹرمپ کے ردعمل کے منتظر ہیں۔





