
سعودی کابینہ نے یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی شہری تنصیبات اور شہریوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سعودی میڈیا کے مطابق کابینہ کا اجلاس سعودی ولی عہد اور وزیرِ اعظم محمد بن سلمان کی زیر صدارت ہوا، محمد بن سلمان نے کابینہ کو وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو سے آگاہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل بریڈ کوپر سے اپنی ملاقات کی تفصیلات سے بھی کابینہ کو آگاہ کیا۔
سعودی کابینہ نے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت حق دفاع کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں موجودہ علاقائی صورتحال اور مختلف فریقوں سے بات چیت کا بھی جائزہ لیا گیا۔
سعودی کابینہ نے علاقائی اور عالمی صورتحال پر نظر رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے امن اور سلامتی کیلئے مذاکرات اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے پر زور دیا۔
سعودی عرب پر یمن کے حوثیوں کے تازہ حملوں کے نتیجے میں 13 شہری زخمی ہو گئے ہیں۔ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے سعودی شہروں خمیس مشیط، ابہا اور طائف پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون سے حملے کئے جن میں 7 مکانات اور 2 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ حملوں کا سلسلہ دہشتگرد حوثی ملیشیا کے طرزِ عمل اور انتہا پسندانہ نظریے کو ثابت کرتا ہے، جس میں کشیدگی بڑھانا اور شہری تنصیبات و شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اتحادی افواج کی مشترکہ کمانڈ سعودی عرب کی خودمختاری، شہری تنصیبات اور شہریوں کو ان سنگین حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے ذمہ دارانہ اور سخت کارروائی کرے گی۔ کارروائی بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج حقِ دفاع کے اصول کے مطابق کی جائے گی۔
دوسری جانب سعودی سول ڈیفنس نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی حفاظت کے لیے سول ڈیفنس کی ہدایات پر عمل جاری رکھیں، ہجوم سے گریز کریں اور ویڈیو بنانے سے بھی اجتناب کریں۔ ہنگامی صورتحال میں 911 پر کال کریں۔
سعودی سول ڈیفنس کا یہ بیان حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع کے اس دعوے کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یمن کے 5 صوبوں میں 54 حملے کیے اور ان





