
بیجنگ :یہ ایک حیرت انگیز ملک ہے۔” برطانوی سیاح الوی نے حال ہی میں چین کا تیسرا سفر شروع کیا ہے، جبکہ نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والے سیاح باہا نے ابتدائی طور پر چین کے سفر کا چند ہفتوں کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن بالآخر وہ چھ ماہ تک چین میں رہے۔ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلون مسک نے بھی حال ہی میں سوشل میڈیا پر چین کو سراہتے ہوئے سب کو "پرزور مشورہ” دیا کہ وہ چین کا دورہ کریں۔ ان سب کا کہنا ہے کہ "چین کو بار بار دریافت کرنے کی ضرورت ہے، ایک بار کافی نہیں اور میں بار بار چین آنا چاہتا ہوں۔”رواں سال کی پہلی ششماہی میں چین آنے والے غیر ملکی افراد کی تعداد 2 کروڑ 29 لاکھ 14 ہزار رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 20.4 فیصد زیادہ ہے۔ چائنا ٹورازم اکیڈمی کے پہلے جاری کردہ سروے کے مطابق، 60 فیصد سے زیادہ غیر ملکی سیاحوں نے چینی ثقافت کا تجربہ کرنے کو چین آنے کا بنیادی مقصد قرار دیا۔علاوہ ازیں ،چین کا سفر سہل بھی ہے۔ رواں سال اپریل تک چین 29 ممالک کے ساتھ مکمل باہمی ویزا فری معاہدے کر چکا ہے، 50 ممالک کے شہریوں کے لیے یک طرفہ ویزا فری پالیسی نافذ ہے، جبکہ 240 گھنٹے کی ٹرانزٹ ویزا فری پالیسی سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کی تعداد بڑھا کر 55 کر دی گئی ہے۔ویزافری پالیسی میں مسلسل توسیع، ٹیکس ریفنڈ کی نئی پالیسی کے نفاذ، تیز رفتار ریلوے کی اعلیٰ کارکردگی، موبائل ادائیگی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سفری منصوبہ بندی سمیت متعدد سہولتوں نے چین کے سفر کو مزید آسان بنا دیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق”ٹیکنالوجی ٹورازم” کے ذریعے چین کا تجربہ غیر ملکی سیاحوں کے لیے چین کی ترقی کو سمجھنے اور مواقع تلاش کرنے کا ایک اہم دریچہ بن رہا ہے۔ فولڈنگ اسکرین والے موبائل فون، ڈرونز اور دیگر "میڈ اِن چائنا” مصنوعات غیر ملکی سیاحوں کے سوٹ کیسز میں تیزی سے جگہ بنا رہی ہیں۔





