کالم /بلاگز

عوامی ایکشن کمیٹی، تحریکِ آزادی کشمیر اور قومی ذمہ داریاں

تحریر: سید منظور احمد شاہ (سینئر حریت رہنما)


ریاست جموں و کشمیر اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں جذبات سے زیادہ دانش، تصادم سے زیادہ مکالمہ، اور احتجاج سے زیادہ آئینی و جمہوری جدوجہد کی ضرورت ہے۔ میں نے عوامی ایکشن کمیٹی سے پہلے بھی گزارش کی تھی کہ اپنے مطالبات کے حصول کے لیے سنجیدگی، عقل مندی، مذاکرات اور آئینی طریقہ کار کو اختیار کیا جائے۔ جتھہ بندی، جلاؤ گھیراؤ اور ریاستی اداروں سے تصادم نہ صرف اپنے ہی نقصان کا باعث بنتا ہے بلکہ ایسے حالات میں تخریب کار اور دشمن عناصر بھی فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے قومی اتحاد کمزور ہوتا ہے اور دشمن کے مقاصد پورے ہوتے ہیں۔بھارت نے 2019 میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے اسے یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا، جس سے ریاست کی تاریخی، قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی حیثیت کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ آبادی کے تناسب اور تحریکِ آزادی کو بھی متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ ایسے وقت میں آزاد کشمیر کے اندر جس اتحاد، قوت اور منظم مزاحمت کی ضرورت تھی، وہ نظر نہ آئی۔ اگر یہی جذبہ بھارت کے ان اقدامات کے خلاف دکھایا جاتا تو دنیا کو یہ واضح پیغام جاتا کہ ریاست کے دونوں حصوں کے عوام ایک ہی مقصد، یعنی آزادی کے لیے متحد ہیں۔ریاست جموں و کشمیر کی جدوجہد کی تاریخ 1924 کی ریشم خانہ تحریک سے شروع ہوتی ہے، جو بعد ازاں 1931 میں بنیادی حقوق سے آگے بڑھ کر اسلامی تشخص اور مسلم اتحاد کی تحریک بن گئی۔ 1934 میں پرجا سبھا کے قیام نے ریاست کے عوام کو کئی بنیادی حقوق فراہم کیے۔ 1947 میں ریاست کے عوام نے ڈوگرہ حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لیا، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے رہنماؤں نے 19 جولائی 1947 کی قرارداد کے ذریعے پاکستان کے ساتھ الحاق کے نظریے کو اختیار کیا۔ بعد ازاں بھارت نے ان رہنماؤں کو جلاوطن کیا، جن میں چودھری غلام عباس، خواجہ خورشید حسن خورشید، محمد یوسف شاہ، سردار محمد ابراہیم خان اور دیگر اکابرین شامل تھے۔ انہی شخصیات نے آزاد حکومتِ ریاست جموں و کشمیر کی بنیاد رکھی اور اسے تحریکِ آزادی کا بیس کیمپ بنایا۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مشترکہ تاریخ اور ان عظیم قربانیوں کا احترام کیا جائے۔ عوامی ایکشن کمیٹی کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی قیادت، مہاجرین اور حریت پسند حلقوں سے مسلسل رابطے میں رہے اور تحریکِ آزادی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت اور عوام نے مقبوضہ کشمیر کے ساتھ اپنے روابط کمزور کر دیے، جس کے نتیجے میں وہاں کے عوام تنہائی کا شکار ہوئے اور بھارت کو اپنے اقدامات مزید مضبوط کرنے کا موقع ملا۔آزاد کشمیر کو آج جو ادارے، اسمبلی، عدلیہ، آئین، انتخابی نظام اور دیگر انتظامی ڈھانچہ حاصل ہے، وہ ایک بڑی تاریخی جدوجہد اور مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ اس لیے ان اداروں کو کمزور کرنے یا ایسے حالات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جو مستقبل میں آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔عوامی ایکشن کمیٹی اگر واقعی عوامی نمائندگی چاہتی ہے تو اسے آئینی اور جمہوری راستہ اختیار کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے، اسمبلی تک پہنچنا چاہیے اور قانون سازی کے ذریعے عوامی مسائل کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ دنیا بھر میں پائیدار تبدیلی کا راستہ جمہوری اداروں سے ہو کر گزرتا ہے، نہ کہ تصادم اور تشدد سے۔مقبوضہ کشمیر کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے۔ 1987 کے انتخابات میں دھاندلی کے بعد حالات اس نہج پر پہنچے کہ عوام کو مسلح جدوجہد کی طرف دھکیلا گیا، مگر اس کے باوجود بھارت نے مذاکرات کے دروازے بند رکھے۔ نتیجتاً وہاں نہ صرف ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ ریاست کی خصوصی حیثیت، آئینی شناخت اور دیگر بنیادی حقوق بھی سلب کر لیے گئے۔ اس تلخ تجربے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے آزاد کشمیر کو مالی، انتظامی اور دفاعی سطح پر مسلسل تعاون فراہم کیا ہے۔ یہاں کے عوام کو تعلیم، روزگار، کاروبار، فوج، سول سروس اور دیگر شعبوں میں وسیع مواقع حاصل ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں حالات اس کے برعکس ہیں، جہاں گرفتاریاں، جائیدادوں کی ضبطی، اظہارِ رائے پر پابندیاں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روز کا معمول ہیں۔اسی لیے یہ سوال اہم ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر مؤثر آواز کیوں نہیں اٹھاتی؟ کیوں وہاں کے شہداء، قیدیوں اور حریت قیادت کے ساتھ عملی یکجہتی کم دکھائی دیتی ہے؟ اگر تحریک کا مقصد واقعی ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح اور آزادی ہے تو اس کا دائرہ صرف آزاد کشمیر تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پوری ریاست کے عوام کی نمائندگی اس کا بنیادی نصب العین ہونا چاہیے۔حریت کانفرنس اور مقبوضہ کشمیر کی قیادت ہمیشہ اس بات پر آمادہ رہی ہے کہ پاکستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان رابطے مضبوط ہوں، مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔ بھائیوں کے درمیان اختلافات بھی بھائی ہی دور کرتے ہیں، اس لیے تصادم کے بجائے مکالمے، اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔آخر میں عوامی ایکشن کمیٹی سے یہی گزارش ہے کہ وہ اپنے موقف کو واضح کرے، مقبوضہ کشمیر کے عوام کے ساتھ اپنی وابستگی کو عملی اقدامات سے ثابت کرے، بھارتی مظالم کے خلاف دوٹوک آواز بلند کرے اور ایسے تمام شبہات کا خاتمہ کرے جو اس کی جدوجہد پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ قومی اتحاد، آئینی جدوجہد اور تحریکِ آزادی کشمیر سے مضبوط وابستگی ہی وہ راستہ ہے جو ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو ایک باوقار اور محفوظ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker