
بیجنگ :بیجنگ میں”2026 عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی کے اعلی سطحی فورم ” کا افتتاح ہوا، جس میں ” انسانی حقوق کا قومی ایکشن پلان (2030-2026)” جاری کیا گیا۔ انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان (2025-2021) کے نفاذ کی جائزہ رپورٹ، جو چند روز قبل ہی جاری کی گئی تھی، قابل تصدیق اور ٹھوس اعداد و شمار کے مکمل سیٹ کے ذریعے واضح طور پر چین کے انسانی حقوق کے نصب العین کی تاریخی پیشرفت کی عکاسی کرتی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ چین "عوام کو اولین ترجیح دینے” پر مبنی انسانی حقوق کی ترقی کے تصور پر مسلسل عمل پیرا ہے۔جائزہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلان (2025-2021) کے تمام 181 اہداف پورے کئے جا چکے ہیں،
جن میں 44 لازمی اہداف میں سے 20 مقررہ وقت سے پہلے یا طے شدہ ہدف سے بڑھ کر مکمل کیے گئے ۔ یہ محض اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ مختلف شعبوں میں انسانی حقوق کے جامع اور منظم فروغ کی عکاسی ہے، جس میں بقاء ، ترقی، صحت، تعلیم، اور سماجی تحفظ کے حقوق شامل ہیں۔ ان حقوق میں ہونے والی پیش رفت کروڑوں افراد کی زندگیوں میں حقیقی اور نمایاں بہتری کی مظہر ہے۔اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ چین میں غربت کے خاتمے کے ثمرات کو مسلسل مستحکم کیا گیا ہے۔ 2021 سے 2025 تک، چین نے 16 ملین سے زیادہ لوگوں کو مانیٹرنگ اور امدادی پروگرام میں شامل کیا تاکہ انہیں دوبارہ غربت کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے اور ان میں سے اکثریت کامیابی کے ساتھ غربت سے باہر نکلنے میں کامیاب رہی۔ غربت سے نکلنے والی کاؤنٹیز میں دیہی باشندوں کی فی کس ڈسپوزیبل آمدنی 2020 میں 12,588 یوآن سے بڑھ کر 2024 میں 17,522 یوآن تک جا پہنچی، جس کی اوسط سالانہ حقیقی نمو 7.8 فیصد ہے، جو کہ قومی دیہی اوسط سے زیادہ تیز ہے۔ اناج کی پیداوار مسلسل کئی سالوں سے 650 ارب کلوگرام سے زائد پر قائم رہی ہے، اور فی کس اناج کی دستیابی 500 کلو گرام سے زیادہ ہے، جو بین الاقوامی غذائی تحفظ کی مقررہ حد سے بلند ہے۔ دیہی علاقوں میں پائپ لائنز کے ذریعے فراہم کیے جانے والے صاف پانی کی رسائی 88 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، دیہی رہائش گاہوں کی حفاظتی جانچ اور ضروری اصلاحات مکمل کی جا چکی ہیں، جبکہ نقل مکانی کرنے والے 96 لاکھ افراد مستقل طور پر آباد ہو کر بہتر زندگی گزارنے کے قابل بن گئے ہیں۔چین نے دنیا میں صحت عامہ کا سب سے بڑا نظام قائم کیا ہے، اور صحت کے حقوق کا معیار متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک میں صف اول میں شامل ہو چکا ہے۔ 2024 کے اواخر تک، چین میں 1.092 ملین طبی ادارے، 12.95 ملین ہیلتھ ٹیکنیشنز، جبکہ ہسپتالوں میں بستروں کی تعداد 10.37 ملین تک پہنچ چکی تھی۔ بڑی دائمی بیماریوں کے باعث اموات کی شرح میں 2015 کے مقابلے میں 20 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ 2024 میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات 0.25 فیصد ،اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 0.56 فیصد تھی ۔ خصوصی افراد کے لیے بحالیِ صحت کی خدمات کی فراہمی میں بھی مسلسل بہتری آئی، جو متوسط اور اعلیٰ آمدنی والے ممالک کی اوسط سے بہتر رہی۔ چین میں جنرل ہیلتھ انشورنس 1.36 بلین لوگوں کا احاطہ کر چکی ہے، انرولمنٹ کی شرح 95 فیصد سے زیادہ پر مستحکم رہی ہے، اور عوام کے لیے طبی اخراجات کا بوجھ مسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔تعلیمی حقوق کے حوالے سے "تعلیم تک رسائی” سے "معیاری تعلیم تک رسائی” میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ ملک کی 96.8 فیصد کاؤنٹیز میں لازمی تعلیم کے متوازن فروغ کا ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔ 2024میں نو سالہ لازمی تعلیم کی تکمیل کی شرح 95.9 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ خصوصی بچوں کے لازمی تعلیم میں داخلے کی شرح 97 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ ہائی اسکول کے لیے مجموعی اندراج کی شرح 92.0 فیصد، اعلیٰ تعلیم کے لیے مجموعی اندراج کی شرح 59.6 فیصد رہی، اور مجموعی طور پر زیر تعلیم طلبہ کی کل تعداد 46 ملین تک پہنچ گئی ، اور یوں دنیا کا سب سے بڑا تعلیمی نظام قائم کیا گیا۔ سماجی تحفظ کے معیار میں مسلسل فروغ حاصل ہوا۔ بزرگوں کا بنیادی بیمہ 1 بلین لوگوں کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ بے روزگاری بیمہ اور کام سے متعلق حادثات کا بیمہ بالترتیب 230 ملین اور 270 ملین افراد کا احاطہ کرتا ہے۔ کم آمدنی والے افراد کے لیے حکومتی امداد حاصل کرنے والوں کی تعدادتقریباً 40 ملین پر مستحکم رہی ہے، جب کہ انتہائی غربت کا شکار لوگوں اور یتیموں سمیت دیگر افراد کے لیے امدادی معیارات میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔چین میں انسانی حقوق کے عملی تجربات نے بارہا ثابت کیا ہے کہ انسانی حقوق محض نعرہ نہیں بلکہ ایک ایسی روزمرہ حقیقت ہیں جنہیں عوام محسوس بھی کرتے ہیں اور ان سے براہِ راست مستفید بھی ہوتے ہیں۔ وہ مٹھی بھر لوگوں کا استحقاق نہیں، بلکہ تمام لوگوں کے لیے ایک عالمگیر فلاح کا ذریعہ ہیں۔ چین دوہرا معیار لاگو نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، چین ترقی کے ذریعے انسانی حقوق کو فروغ دیتا ہے اور تعاون کے ذریعے انسانی حقوق کا تحفظ کرتا ہے، اور اپنی 1.4 بلین سے زیادہ آبادی کے مفادات کو اعلیٰ ترین مقام پر رکھتا ہے۔ ٹھوس اعداد و شمار، عملی اقدامات اور مضبوط نظام کے ساتھ، چین نے ترقی پذیر ممالک میں انسانی حقوق کی ترقی کے لیے ایک نمونہ قائم کیا ہے۔انسانی حقوق کے نئے قومی ایکشن پلان کا اجراء بلاشبہ مستقبل کے لیے چین کی جانب سے ایک پختہ عزم ہے۔ چین عوام کو اولین ترجیح دینے پر توجہ مرکوز رکھے گا، ترقی کے ثمرات کو مسلسل زیادہ موثر انسانی حقوق کے تحفظ میں تبدیل کرتا رہے گا، عالمی انسانی حقوق کی حکمرانی میں فعال طور پر حصہ لے گا اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے نصب العین کو زیادہ مساوی، منصفانہ، معقول اور جامع سمت کی طرف فروغ دے گا، تاکہ انسانی حقوق کی روشنی دنیا کے کونے کونے کو صحیح معنوں میں چمکدار بنا سکے۔





