
بیجنگ : آٹھ جون 2006 کو اس وقت کے زے جیانگ صوبائی کمیٹی کے سیکرٹری شی جن پھنگ نے پہلی مرتبہ جامع انداز میں "ای وو کے ترقیاتی تجربے” کی وضاحت کی۔ اس وقت شاید بہت کم لوگ یہ تصور کر سکتے تھے کہ یہ چھوٹا سا شہر، جو نہ سمندر کے کنارے واقع ہے اور نہ ہی کسی سرحدی علاقے میں، صرف 20 برس کے اندر کاؤنٹی سطح کی معیشت سے ترقی کرتے ہوئے ایک عالمی تجارتی مرکز میں تبدیل ہو جائے گا۔
آج گزشتہ دو دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو ای وو نے اعداد و شمار کے ایک طویل سلسلے اور صنعتی ترقی کے مسلسل فروغ کے ذریعے دنیا کو یہ دکھایا ہے کہ "ناممکن کو ممکن بنانا”، "عدم سے وجود پیدا کرنا” اور "پتھر کو سونا بنا دینا” دراصل ترقی کے معجزات کی حقیقی مثالیں ہیں۔اعداد و شمار 800ارب یوان کی "عالمی سپر مارکیٹ” کی گواہی دیتے ہیں۔ 2025 میں ای وو کی غیر ملکی تجارت کی کل مالیت پہلی بار 800 ارب یوآن سے تجاوز کرتے ہوئے 836.5 ارب یوآن تک پہنچ گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25.1 فیصد زیادہ ہے۔ درآمدات پہلی بار 100 ارب سے تجاوز کرتے ہوئے 105.8 ارب یوآن تک پہنچ گئیں، اور اس کی شرح اضافہ سال بہ سال 32.3 فیصد ہے۔
ترقی کا یہ رجحان 2026 میں بھی برقرار رہا۔ اس وقت ای وو کے ساتھ تجارتی روابط رکھنے والے ممالک اور خطوں کی تعداد 230 سے تجاوز کر چکی ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے دراصل ایک کاؤنٹی سطح کی معیشت کا "عالمی سپر مارکیٹ” میں تبدیل ہونے کا حیرت انگیز سفر پوشیدہ ہے۔2026 کے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے آغاز میں اب زیادہ وقت باقی نہیں رہا اور ای وو ایک مرتبہ پھر "پوشیدہ چیمپئن” کے طور پر سامنے آیا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ورلڈ کپ سے متعلق یادگاری اور ضمنی مصنوعات کی عالمی منڈی میں تقریباً 70 فیصد حصہ "ای وو ساختہ” مصنوعات پر مشتمل ہے۔ رواں سال جنوری اور فروری کے دوران ای وو سے کھیلوں کے سامان اور آلات کی برآمدات 2.34 ارب یوان تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 38.5 فیصد زیادہ ہیں۔ ان میں سے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کو برآمدات 550 ملین یوان رہیں، جو 21.3 فیصد اضافے کی عکاس ہیں۔تاہم اس سال کی کہانی میں ایک نیا باب بھی شامل ہو چکا ہے۔ ای وو اب صرف کم لاگت پر مصنوعات تیار کرنے والے مرکز کی حیثیت سے آگے بڑھ کر اصل تخلیقی ڈیزائن کے مرکز میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈان ناس کمپنی کے پاس چین میں سینکڑوں اور بیرون ملک 30 سے زائد پیٹنٹس موجود ہیں۔ اسی طرح "شی من سا اسپورٹس کمپنی” نے اپنی خود تیار کردہ ڈیزائن صلاحیت کے بل بوتے پر دو لاکھ سے زیادہ فٹ بالوں کے برآمدی آرڈرز حاصل کیے ہیں۔ ای وو کے متعدد تاجروں کا کہنا ہے کہ رواں سال ورلڈ کپ سے متعلق آرڈرز کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 سے 30 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔جب "چین میں ڈیزائن کردہ” کا تصور "چین میں تیار کردہ” کے روایتی تصور کی جگہ لے رہا ہے تو ای وو کی عالمی پیداوار اور سپلائی چین میں حیثیت بھی خاموشی سے ازسرنو تشکیل پا رہی ہے۔چین۔یورپ مال بردار ریل سروس اب تک 8,800 سے زائد ٹرینیں چلا چکی ہے، جس کا نیٹ ورک 50 سے زیادہ ممالک اور 160 سے زائد شہروں تک پھیل چکا ہے۔دوسری جانب "ای وو پے” سرحد پار ادائیگیوں کا پلیٹ فارم 29 بڑی عالمی کرنسیوں کو سپورٹ کرتا ہے، جبکہ اس کے ذریعے سرحد پار وصولیوں کا مجموعی حجم 12.1 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے ای وو کی وہ مضبوط صلاحیت موجود ہے جس نے اسے عالمی تجارتی نیٹ ورک میں گہرائی سے شامل کر دیا ہے۔ آج ای وو صرف اشیا کی تقسیم اور ترسیل کا مرکز نہیں رہا بلکہ حقیقی معنوں میں ایک عالمی تجارتی اور کاروباری مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ای وو کی یہ شاندار تبدیلی صرف منڈی اور تجارت تک محدود نہیں بلکہ اس نے شہری اور دیہی علاقوں کی مشترکہ ترقی اور مشترکہ خوشحالی کی ایک زندہ مثال بھی پیش کی ہے۔2025 میں ای وو میں شہری آبادی کا تناسب 83.7 فیصد تک پہنچ گیا، جبکہ دیہی باشندوں کی فی کس قابل تصرف آمدنی کی شرح نمو مسلسل 21 برس سے شہری باشندوں کی شرح نمو سے زیادہ رہی ہے۔لی زو گاؤں کبھی ایک گمنام پہاڑی بستی تھا، لیکن آج یہ نوجوان کاروباری افراد اور اختراع کاروں کے لیے "خوابوں کی منزل” بن چکا ہے۔ دیہی کاروباری افراد نے یہاں کافی شاپس قائم کی ہیں، روایتی رنگ سازی کی ورکشاپس شروع کی ہیں اور ای کامرس و لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے اپنی مصنوعات پورے چین میں فروخت کر رہے ہیں۔2025 میں اس گاؤں نے 10 لاکھ سے زائد سیاحوں کا استقبال کیا، جبکہ گاؤں کی اجتماعی کاروباری آمدنی 24 لاکھ 50 ہزار یوان تک پہنچ گئی۔”خوانچہ فروشوں” سے "اختراعی کاروباری گاؤں” تک، اور "باہر جانے” سے "لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے” تک، ای وو نے شہری اور دیہی علاقوں کی ہم آہنگ ترقی کے عملی نمونے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ کاؤنٹی معیشت صرف شہروں کی خوشحالی کا ذریعہ نہیں بنتی بلکہ دیہی علاقوں کے لیے بھی نئی امید پیدا کرتی ہے۔”ای وو ترقیاتی تجربے” کے 20 سال مکمل ہونے کے موقع پر جب اس حیرت انگیز تبدیلی پر نظر ڈالی جاتی ہے تو اس کا سب سے اہم سبق دراصل ان چند الفاظ میں سمویا جا سکتا ہے” مارکیٹ کا احترام، عوام کا احترام، مستقل مزاجی، اور طویل المدتی جدوجہد”۔متحرک خوانچہ فروشوں سے لے کر 230 سے زائد ممالک اور خطوں کو جوڑنے والی "عالمی سپر مارکیٹ” تک، ای وو نے صرف 20 برس میں کاؤنٹی سطح کی معیشت کی ترقی کا ایک حیران کن معجزہ رقم کیا ہے۔آج یہ "سنہری پرندہ” اپنے پروں کو مزید وسعت دیتے ہوئے نہ صرف ایک کاؤنٹی معیشت کی حدود سے نکل چکا ہے بلکہ عالمی معیشت اور تجارت کے وسیع تر افق کی جانب پرواز کر رہا ہے۔




