بین الاقوامی

دریائے شیانگ جیانگ سے خلا تک، چین کے خلائی سفر میں نیا باب

بیجنگ :شینزو 23 انسان بردار خلائی جہاز چین کے جیوچھیوان سیٹلائٹ لانچ سینٹر سے لانچ کیا گیا اور مقررہ مدار میں داخل ہوا، یوں یہ لانچنگ مشن مکمل طور پر کامیاب رہا۔ خلاباز چو یانگ زو، زانگ جی یوان، اور لی جیا اینگ چین کے خلائی اسٹیشن میں داخل ہوئے اور پہلے سے مدار میں موجود شینزو 21 کے خلاباز عملے کے ساتھ کامیابی سے اکٹھے ہو گئے ۔ یہ چینی خلائی پرواز کی تاریخ میں آٹھویں "خلائی ملاقات” ہے،اور چینی خلائی اسٹیشن میں ہانگ کانگ کے خلاباز کی پہلی آمد بھی ہے۔

یہ مشن نہ صرف انسان بردار خلائی پرواز میں چین کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے، بلکہ ہانگ کانگ کی پہلی خاتون خلاباز کی خلائی مشن میں شمولیت اور "ایک ملک، دو نظام” کی بھرپور ترقی کا زندہ ثبوت بھی ہے ۔ یہ مشن اپنے خوابوں کے تعاقب میں تمام چینی لوگوں کی یکجہتی اور حب الوطنی کی عکاسی کرتا ہے۔اس مشن کے عملے کی تشکیل چین کے ترقی یافتہ اور مستحکم ایرو اسپیس ٹیلنٹ سسٹم کی عکاس ہے۔ چو یانگ زو، شینزو 16 مشن کے عملے کے رکن رہ چکے ہیں اور مدار میں موجود تمام آپریشنز کی نگرانی اور ہم آہنگی کے ذمہ دار ہیں۔ زانگ جی یوان خلابازوں کی تیسری کھیپ کے رکن ہیں اور ان میں شاندار جسمانی اور ذہنی معیار کے ساتھ ساتھ ہنگامی ردعمل کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔

لی جیا اینگ خلابازوں کے چوتھے بیچ کی رکن اور چین کے ہانگ کانگ کی پہلی خلاباز ہیں، جو پے لوڈ ماہر کے طور پر خلائی سائنسی تحقیق انجام دے رہی ہیں۔ پرانے اور نئے خلابازوں کے درمیان تعاون پر مبنی خلائی عملے کی ترتیب اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ چین کے پاس ایرو اسپیس ٹیلنٹ کے وافر ذخائر اورسائنسی اور عمدہ تربیتی نظام موجود ہے، جو گہری خلائی تحقیق کی مسلسل پیشرفت کے لیے باصلاحیت افراد کی مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔لی جیا اینگ کا خلائی تحقیق کے اپنے خواب کے تعاقب کے لیے سفر، ہانگ کانگ کے نوجوانوں کی حب الوطنی اور ان کے خوابوں کی دلیرانہ جستجو کا روشن نمونہ ہے۔ وہ ہانگ کانگ میں پیدا ہوئیں ، وہیں پلی بڑھیں اور وہاں سے کمپیوٹر فرانزکس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ وہ الیکٹرانک فرانزک اور سائبر سیکیورٹی کے ماہر کے طور پر ہانگ کانگ پولیس فورس میں بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔ 2022 میں، جب ملک کی جانب سے ہانگ کانگ اور مکاؤ سے پے لوڈ ماہرین کا انتخاب کیا جا رہا تھا تو لی جیا اینگ نے بھی اس کے لئے درخواست دی اور سخت امتحانات پاس کرنے کے بعد کامیابی کے ساتھ منتخب ہوئیں۔

ایرو اسپیس شعبے میں شامل ہونے کے بعد انہوں نے نظریاتی علوم کے مطالعے ، سخت جسمانی تربیت، سیمولیشن مشقوں اور دیگر دشوار تربیتی مراحل میں بھرپور محنت کی، اور اپنے پختہ عزم کے باعث بالآخر خلائی مشن کے رکن کے طور پر اہلیت حاصل کر لی۔لی جیا اینگ کی اپنے خلائی خواب کی تعبیر میں یہ کامیابی محض ذاتی اعزاز نہیں، بلکہ ملک کی مجموعی ترقی میں ہانگ کانگ کے انضمام کے سلسلے میں ایک تاریخی واقعہ بھی ہے، اور یہ "ایک ملک، دو نظام” کے عمل میں ایک اہم تاریخی لمحہ ہے۔ مادر وطن کی حمایت کی بدولت، ہانگ کانگ کے جوانوں کا اسٹیج کبھی بھی ہانگ کانگ تک محدود نہیں رہا، بلکہ پورے ملک اور یہاں تک کہ وسیع کائنات تک پھیلا ہوا ہے۔ 23 مئی کومنعقدہ پریس کانفرنس میں، لی جیا اینگ نے واضح کیا کہ ہانگ کانگ میں لائن راک کا ناقابلِ تسخیر جذبہ انسان بردار خلابازی میں مشکلات پر قابو پانے کے جذبے سے انتہائی مطابقت رکھتا ہے۔

انہوں نے ہانگ کانگ کے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ خوابوں کی تعبیر زیادہ دور نہیں اورنہ ہی ذاتی شناخت تک محدود ہے، اور یہ کہ مادر وطن ہمیشہ خوابوں کی تکمیل کے لیے سب سے زیادہ قابل اعتماد سہارا رہے گا۔طویل عرصے سے ہانگ کانگ کے ہم وطن چین کے خلائی پروگرام پر گہری توجہ دیتے آ رہے ہیں۔ چاند اور مریخ کے مشنز سے لے کر خلائی اسٹیشن کی تعمیر تک، ہانگ کانگ کے تحقیقی اداروں اور یونیورسٹیوں نے مسلسل اپنی حکمت اور طاقت کا حصہ ڈالا ہے۔ سائنسی تحقیقی تعاون سے لے کر خلائی مشنز میں اہلکار بھیجنے تک، ہانگ کانگ کی جانب سے مادر وطن کے خلائی پروگرام کے ساتھ تعلقات تیزی سے قریب تر ہوتے جا رہے ہیں۔ "ایک ملک، دو نظام” کے فریم ورک کے تحت، ہانگ کانگ کے ہم وطن اب نہ صرف بڑے قومی منصوبوں میں شریک ہیں، بلکہ وہ قومی اور حتیٰ کہ عالمی سطح پر سائنس اور ٹیکنالوجی کے اسٹیج پر بھی شریک اور معمار کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ پیش رفت پوری طرح سے ظاہر کرتی ہے کہ ادارہ جاتی برتریاں جغرافیائی رکاوٹوں کو توڑ دیتی ہیں، جس سے انفرادی خواہشات کو قومی ترقی کے عظیم الشان خاکے میں ضم کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا کہ ہانگ کانگ کی ایک ماہر کا پہلی مرتبہ خلائی مشن میں خلاباز کے طور پر شامل ہونا نہایت اہم پیش رفت ہے۔

شینزو 23 انسان بردارمشن نہ صرف چین کی جانب سے کائنات کی تحقیق میں ایک نئے سنگ میل کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ہانگ کانگ کے ہم وطنوں سمیت تمام چینی لوگوں کے فخر اور شان وشوکت کی علامت بھی ہے۔ لی جیا اینگ کی کامیابی نے "ایرو اسپیس کے ذریعے قوم کی خدمت” کو مزید عملی بنا دیا ہے: چاہے تعلق مین لینڈ سے ہو یا ہانگ کانگ اور مکاؤ سے، اگر دل میں وطن کی محبت اور خوابوں کی تعبیر کا حوصلہ موجود ہو تو ہر فرد قومی نشاۃِ ثانیہ کے عظیم سفر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتا ہے۔آج کی دنیا میں، جہاں عالمی منظر نامے میں گہری تبدیلیاں آرہی ہیں اور تکنیکی مسابقت میں شدت پیدا ہو رہی ہے، ایسے میں چین کی ایرو اسپیس انڈسٹری نے ہمیشہ جدت، کھلے پن اور جامعیت پر قائم رہتے ہوئے اور تکنیکی طاقت کو تشکیل دیتے ہوئے قوم کو متحد کیا ہے۔ یکجہتی اور ترقی کا یہ جذبہ نہ صرف چین کی ایرو اسپیس انڈسٹری کو مسلسل نئی بلندیوں تک پہنچا رہا ہے، بلکہ قومی نشاۃ ثانیہ کے نصب العین کو مستحکم انداز میں آگے بڑھانے میں ایک طاقتور محرک قوت میں تبدیل ہو رہا ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker