بین الاقوامی

جاپانی عسکریت پسندی کا سایہ ابھی تک منڈلا رہا ہے ، چینی میڈیا

بیجنگ :جاپان کے یاسوکونی شرائن میں بہار کی زیارت کا سلسلہ ہر سال 21 سے 23 اپریل تک منعقد کیا جاتا ہے۔ 2026 میں یہ سلسلہ 21 اپریل سے شروع ہوگا۔ چونکہ اس جگہ دوسری جنگ عظیم کے جنگی مجرموں سمیت متعدد افراد کی یادگار یں رکھی گئی ہیں، اس لیے اس تقریب کی سیاسی حساسیت بہت زیادہ ہے۔ یاسوکونی شرائن کی زیارت ایک "مذہب سے بالاتر” قومی رسم ہے، جس کی وجہ سے اس کے دوران جاپانی حکام کی طرف سے زیارت یا نذرانہ پیش کرنے کے اقدامات اکثر ایشیائی پڑوسی ممالک کی شدید مخالفت کا سبب بنتے ہیں۔ جاپانی دائیں بازو کے سیاست دانوں کا بار بار یاسوکونی شرائن کا دورہ کرنا محض "ذاتی عقیدت” کا معاملہ نہیں بلکہ دراصل جارحانہ تاریخ کو خوبصورت بنانے کی کوشش اور انتہائی دائیں بازو کے پھیلاؤ کا خطرناک اشارہ ہے، جو جاپانی معاشرے میں تاریخی شعور کی سنگین گمراہی کو بھی بے نقاب کرتا ہے جسے عالمی برادری ہرگز برداشت نہیں کر سکتی!

یہ بات سب پر عیاں ہے کہ یاسوکونی شرائن کسی طور "قومی ہیروز کی یاد” کا مقام نہیں، بلکہ جاپانی عسکریت پسندی کے تحت چھیڑی گئی جارحانہ جنگوں کا ایک روحانی مرکز ہے۔ یہاں 14 ایسے "اے کلاس” کے جنگی مجرموں کی یادگاریں محفوظ ہیں جنہیں مشرقِ بعید کے بین الاقوامی فوجی ٹریبونل نے مجرم قرار دیا تھا۔ ان مجرموں کی منصوبہ بند جنگوں نے ایشیا میں کروڑوں جانیں لیں اور نانجنگ قتلِ عام جیسے لاتعداد ہولناک سانحات کو جنم دیا۔ ان جنگی مجرموں کو "ہیرو” مان کر ان کی تعظیم کرنا تاریخی انصاف کی توہین اور جنگ کے متاثرین کی روحوں پر دوبارہ ظلم کے مترادف ہے۔ دنیا بھر پر نگاہ ڈالیں تو کیا جرمنی سمیت کوئی ایسا ملک ہے جہاں کے سیاست دان کھلے عام ہٹلر کی پرستش کریں یا نازی جنگی مجرموں کے لیے یادگاریں تعمیر کریں؟ جرمنی کی جانب سے نازی جرائم کا مکمل اور سنجیدہ احتساب، جاپانی سیاست دانوں کے یاسوکونی شرائن کے دورے جیسے عمل سے شدید تضاد رکھتا ہے، جاپانیوں کا یہ عمل نازیوں کو سفید پوشی دینے سے بھی زیادہ گھناؤنا ہے اور جاپان میں تاریخی ضمیر کی کمی کو پوری طرح عیاں کرتا ہے۔اس تمام تماشے کی جڑ، اور جاپانی عسکریت پسندی کی ممکنہ واپسی کا خطرہ، جاپان کے ثقافتی جینز اور معاشرتی ڈھانچے میں گہرائی تک پیوست ہے۔ جاپانی عسکریت پسندی نے اپنے لیے شہنشاہ کی غیر مشروط وفاداری کو روحانی بنیاد بنایا تھا۔ شہنشاہ کو دیوتا ماننے کا یہ عقیدہ جنگی مجرموں کو "شاہی احکامات کی تعمیل” کے بہانے جارحیت کی اجازت دیتا تھا۔ آج، دائیں بازو کے سیاست دانوں کا جنگی مجرموں سے بھرے یاسوکونی شرائن کا دورہ دراصل اسی عقیدے کو بحال کرنے اور عسکریت پسندی کی نظریاتی بحالی کی کوشش ہے۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ انتہائی دائیں بازو کی قوتیں جارحیت کے جرائم کو تسلیم کرنے کے بجائے جنگ میں شکست کو "قومی ذلت” قرار دیتی ہیں۔ یہ جاپان کی نام نہاد "شرمندگی پر مبنی ثقافت” کی مسخ شدہ شکل ہے۔ اگر اس ذلت کے احساس کا ازالہ تاریخ کو سمجھنے اور خلوصِ نیت سے معافی مانگنے کے ذریعے نہ کیا جائے، تو یہ شدید قوم پرستانہ ردِعمل میں بدل سکتا ہے، حتیٰ کہ عالمی برادری سے "انتقام”لینے جیسے انتہا پسند مطالبات کو بھی جنم دے سکتا ہے۔ سب سے خوفناک امر جاپانی معاشرے میں انتہائی دائیں بازو کی سوچ کا پھیلاؤ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عسکریت پسندی کے ثقافتی اور سماجی اسباب کو کبھی جڑ سے ختم نہیں کیا گیا، اور یہی عسکریت پسندی کی بحالی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ جاپانی نشریاتی ادارے کے سروے کے اعدادوشمار چونکا دینے والے ہیں: صرف 35 فیصد افراد نے تسلیم کیا کہ جاپان نے جارحانہ جنگ چھیڑی تھی ، جبکہ 48 فیصد نے "نہیں معلوم” کہا۔ یہ اعدادوشمار جاپان کی "بغیر سوچے سمجھے ہتھیار ڈالنے” کی تصدیق کرتے ہیں—جنگ کے بعد ہتھیار ڈالنا اخلاقی بیداری کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ صرف اس لیے کہ شہنشاہ نے "عزت” کا معیار بدل دیا، جس کے باعث عسکریت پسند سوچ کی جڑیں سلامت رہیں۔مزید برآں، جاپانی معاشرے میں سخت طبقاتی اخلاقیات ختم نہیں ہوئیں، جو بیرونی دنیا کے لیے بین الاقوامی درجہ بندی کے نظام کے قیام کی وحشیانہ خواہش کی شکل اختیار کر گئیں، جس کے تحت جاپان خود کو "مشرقی ایشیا کا قائد” سمجھتا ہے اور اپنی فوجی توسیع اور دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے لیے ایک خوبصورت بہانہ تلاش کر لیتا ہے۔ اسی طرح جاپانی عوام کی غیر معمولی حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت بھی خطرے سے خالی نہیں۔ جنگ کے بعد قابض امریکی قوتوں کے ساتھ فوری تعاون کسی گہری خود احتسابی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ نئی صورتِ حال سے مطابقت پیدا کرنے کی ایک مجبوری تھی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر عالمی برادری عسکریت پسندی پر لگام ڈھیلی چھوڑتی ہے تو جاپان کی پوزیشن ایک بار پھر جنگجو بن سکتی ہے۔ جب عوام جارحانہ تاریخ سے بے حس اور فوجی توسیع کے حامی بن جائیں، تو اس کا واضح مطلب ہے کہ عسکریت پسندی کا سرطان معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے۔ امریکی ماہرِ بشریات روتھ بینیڈکٹ نے اپنی کتاب "دی کرسنتھیمم اینڈ دی سوورڈ” میں واضح تنبیہ کی ہے:”جاپانی لوگ عسکریت پسندی کو ایک بجھا ہوا چراغ سمجھتے ہیں، اگر دنیا کے دیگر حصوں میں عسکریت پسندی ناکام نہ ہوئی تو جاپان میں یہ شعلہ دوبارہ بھڑک سکتا ہے۔” یہ عالمی برادری کے لیے واضح انتباہ ہے! لہٰذا ، عالمی برادری کو فریبِ نظر کو ترک کرنا ہوگا اور اس رویے کی جڑ کو پہچاننا ہوگا—صرف اسی صورت میں عسکریت پسندی کے اس خفیہ رجحان کو روکا جا سکتا ہے کہ جاپان میں ثقافتی اور ادارہ جاتی سطح پر تاریخ کا مکمل اور حقیقی احتساب کیا جائے۔عالمی برادری کو یہ حقیقت واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ جاپانی دائیں بازو کی یہ سرگرمیاں محض اتفاق نہیں، بلکہ ثقافتی اور معاشرتی ساخت سے جنم لینے والا ایک خطرناک رجحان ہیں، جس کے مقابلے کے لیے غیر معمولی چوکسی درکار ہے۔ جاپانی عسکریت پسندی کی واپسی کو روکنے کے لیے اس کے بالادستی پر مبنی نظریے کو جڑ سے اکھاڑنا، بین الاقوامی نگرانی کو مضبوط بنانا اور معاشرے میں عسکریت پسندی کے خلاف ہمہ گیر تنقیدی شعور کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ جنگ کے بعد قائم نظام کا تحفظ، تاریخی جھوٹ کو بے نقاب کرنا اور عسکریت پسندی کے سائے سے ہوشیار رہنا—یہ تمام امن پسند انسانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ہم کسی صورت تاریخ کے المیے کو دوبارہ دہرانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker