
مقامی وقت کے مطابق چوبیس اگست کو یمن کے حوثیوں کے زیر کنٹرول محکمہ صحت نے کہا ہے کہ یمن پر اسرائیل کے فضائی حملوں میں 4 افراد ہلاک اور 67 زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اسی دن ایک بیان میں اعلان کیا تھا کہ اس نے یمنی دارالحکومت صنعا میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ان میں صدارتی محل کے قریب ایک فوجی اڈہ، ایک پاور پلانٹ، اور ایندھن ذخیرہ کرنے کا اڈہ شامل ہیں،جو حوثی افواج اپنی عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کر رہی تھیں ۔ اسرائیلی بیان کے مطابق یہ حملہ اسرائیل اور اس کے شہریوں پر حوثیوں کے بار بار کیے جانے والے حملوں کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں حال ہی میں اسرائیلی علاقے کو نشانہ بنانے والے زمین سے زمین پر میزائل اور ڈرون فائر ز شامل ہے۔
24 تاریخ کو یمن کے حوثیوں کے زیر کنٹرول المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صنعا کے کئی مقامات اس دن اسرائیلی فضائی حملوں کی زد میں آئے جن میں تیل کی کمپنیاں اور پاور اسٹیشن بھی شامل تھے۔ ایک حوثی افسر نے کہا کہ "فضائی دفاعی فورسز نے حملے میں شامل بیشتر اسرائیلی جنگی طیاروں کو کامیابی سے روکا اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ۔”
اکتوبر 2023 میں اسرائیل فلسطین تنازع کے نئے دور کے آغاز کے بعد سے، یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اسرائیل سے منسلک بحری جہازوں پر غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی حمایت میں حملے کیے ہیں ۔ حوثیوں نے اسرائیل میں اہداف پر حملہ کرنے کے لیے بارہا میزائل اور ڈرونز کا استعمال بھی کیا ہے اور اسرائیل نے بھی حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔





