
اسلام آباد(آئی پی ایس)اڈیالہ جیل میں کرپشن اور جیل حراست کے دوران ٹارچر کے انکشاف پر انسانی حقوق کمیشن نے رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کرادی ہے۔
عدالت نے سیکرٹری انسانی حقوق کو (آج)جمعہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔اس حوالے سے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ تقریریں سب کرتے ہیں حکومت میں آتے ہیں تو کچھ نہیں کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو پیسے دیتا ہے وہ جیل میں موبائل فون بھی استعمال کرتا ہے ملاقاتیں بھی کرتا ہے اور جو قیدی غریب ہو کیا ان کے کوئی حقوق نہیں ہیں۔
اس معاملے پر چیف جسٹس کی جانب سے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی قیدی کی شکایت آئی تو عدالت بہت سیریس ایکشن لے گی۔اڈیالہ جیل حکام نے بتایا کہ 21 سو قیدیوں کی گنجائش ہے اور 62 سو قیدی اڈیالہ جیل میں رہ رہے ہیں
جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ یہ سب سے بڑی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جیلوں کو ایگزیکٹو نے ٹھیک کرنا ہے۔عدالت نے کہا کہ یہ کرپشن کی کہانیوں سے متعلق پہلی درخواست جیل کے حوالے سے نہیں آئی ہے اور جو کچھ جیلوں میں ہورہا ہے آپ کو بھی پتہ ہے سب کو پتہ ہے لیکن اب عدالت اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائے گی۔





