
وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کا اعلان ایک نئی ڈیل کے لیے سودے بازی کی ایک اور کوشش ہے،جس میں اپوزیشن کو ناکامی ہوگی ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر پوسٹ کرتے ہوئے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمو د قریشی نے کہا پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ان کے اتحادی مل کر اپوزیشن رہنماوں کی احتساب سے بچنے کی کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔انہوں نے کہا جیسا جیسا کہ وزیراعظم عمران خان مسلسل کہہ رہے ہیں کہ این آر او کا امکان صفر ہے۔اپوزیشن جو مرضی کرلے این آر او نہیں ملے گا۔ قبل ازیں ملتان میں این اے 156 کی مختلف یونین کونسلوں میں عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں مختلف استقبالیہ تقریبات وفود سے ملاقات کرتے ہوئے وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں احتساب سے بچنے کیلئے اکٹھی ہو رہی ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں جتنا مرضی اکٹھی ہو جائے اپوزیشن کو اپنے ایجنڈے میں ناکامی ہوگی۔ اقتدار سے باہر بیٹھی ہوئی جماعتوں کو انتظار کرنا ہوگا۔ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کریگی۔انہوں نے کہا پی پی ن لیگ دونوں نے عوام کو مایوس کیا۔ دونوں جماعتیں چاہتی تو پاکستان کی تقدیر بدل سکتی تھیں۔ دونو ں جماعتوں کی قیادت نے عوام کو سنہری خواب دکھائے۔ خالی او رجھوٹے نعرے لگائے۔ عوام کا جھوٹے نعروں سے پیٹ نہیں بھرسکتا۔ عوام کو مسٹر ٹین پرسنٹ اور علاج کے بہانے بیرون ملک فرار ہونے والی قیادت قبول نہیں۔ عوام جان چکے ہیں دونوں جماعتیں اقتدار ہو تو پاکستان اور اقتدارکے بعد بیرون ملک ان کی منزل ہوتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان اقتدار میں بھی عوام کے ساتھ ہیں اور اقتدار کے بعد بھی عوام کے ساتھ ہونگے۔ عوام اب ان لٹیروں کے جھانسے میں نہیں آئیں گے۔ عوام اپوزیشن کی کال پر سڑکوں پر نہیں نکلیں گے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف کرپشن اور لٹیروں کے خلاف جنگ کررہی ہے۔ اپوزیشن کی سیاست مفادات اور اقتدار کی سیاست ہے۔ تحریک انصاف کو اقتدار کی ہوس نہیں۔ ہم کرپٹ اور فرسودہ نظام کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ ہم ملک اور قوم کیلئے سیاست کررہے ہیں۔ ہم ایسے نظام کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس میں کرپشن کی دلدل نہ ہو۔ ہم ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس میں انصاف کا بول بالا ہو۔ ہم ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں جس میں میرٹ اور گورننس کی جھلک ہو۔ تحریک انصاف نے حقیقی تبدیلی اور شفاف نظام کے قیام کی بنیاد رکھ دی ہے۔ تحریک انصاف جب اقتدار میں آئی تو ادارے تباہ خزانہ خالی کمزور ملکی معیشت ورثے میں ملی۔ ماضی کے حکمران تمام قومی اداروں کو تباہ کر گئے۔ ہم نے ہر شعبے میں اصلاحات نافذ کیں۔ صحت کارڈ ہماری حکومت کا ایک انقلابی اقدام ہے۔ جس کے ذریعے ہر مستحق شخص دس لاکھ روپے تک کا علاج کروا سکتاہے۔ ماضی میں پیسے نہ ہونے کی وجہ سے غریب اور مستحق شخص ایڑھیاں رگڑکر مر جاتا تھا اب ایسا نہیں ہوگا۔ ہم ایسے اصلاحات نافذکر رہے ہیں بعد میں کوئی بھی شخص صحت کارڈ جیسے اقدامات کو رول بیک نہیں کرسکے گا۔ انہوں نے کہا کرونا وبا کے دوران ہماری حکومت کی پالیسیوں کی بدولت نہ صرف ملکی معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہا بلکہ غریب عوام کو فاقوں سے بھی بچایا۔ وزیراعظم عمران خان نے سمارٹ لاک ڈان کے کلچر کو روشناس کروایا۔ جسے عالمی برادری و اداروں نے سراہا۔ انہوں نے کہا پاکستان ایک زرعی ملک ہے جہاں 70 فیصد لوگ زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ماضی کی کسی حکومت نے زراعت کے شعبے پر توجہ نہیں دی۔





