
وسطی افریقا کے ملک مشرقی کانگو کے شہر بوکاوو میں خوفناک آتشزدگی کا واقعہ رونما ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 2 اسکول اور 300 گھر جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے، آگ لگنے کے نتیجے میں 29 طلبہ ہلاک ہو گئے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق کانگو شہر پر کنٹرول رکھنے والے ایک باغی گروپ ’ایم 23‘ کے ترجمان لارنس کانیوکا نے اس حوالے سے بتایا کہ آگ لگنے سے مرنے والوں میں 19 لڑکیاں اور 10 لڑکے شامل ہیں۔
مقامی منتظم موئز لوبالا کے مطابق آگ پہلے ایک گھر میں لگی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی اور قریبی دو اسکولوں سمیت دیگر گھروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ، کئی طلبہ فوراہا سیکنڈری اسکول کے اندر پھنس گئے جو موت کے منہ میں چلے گئے۔
ایک مقامی اسپتال کے اہلکار نے دعویٰ کیا ہے کہ یہاں 50 سے زائد طلبہ کو لایا گیا تھا، جن میں سے 14 بچوں نے علاج کے دوران دم توڑ دیا۔ جبکہ 21 مریض اب بھی آئی سی یو میں زیر علاج ہیں۔ دوسری جانب حکام نے آتشزدگی کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کی تدفین کر دی گئی، تدفین کے موقع پر علاقے میں ہر طرف غم اور سوگ کی کیفیت رہی، جبکہ بچوں کے والدین شدتِ غم سے نڈھال دکھائی دیئے۔
ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اس نے 17 لاشیں ایمبولینس میں منتقل کرنے میں مدد کی، جن میں بچوں کے علاوہ کئی مرد بھی شامل تھے۔
ادھر کانگو کی حکومت نے ہولناک آتشزدگی میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ تعلیم نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ اسکولوں کا جائزہ لینے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔
یہ سانحہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر کنشاسا میں پیش آنے والے خوفناک واقعے کے بعد پیش آیا ہے، جہاں شادی کی





