
امریکی فوج نے ایران کے لارک جزیرے پر فضائی حملہ کیا ہے، جس کے جواب میں ایران نے اردن میں تعینات امریکی فورسز پر حملہ کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اتوار کو حملہ اس وقت کیا گیا جب پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگوں کے ساتھ راکٹ داغنے کی تیاری کر رہی تھی۔
عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فورسز علاقے کی کڑی نگرانی کر رہی ہیں اور آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کو تیار ہیں۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان نے کہا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے میں کئی ایرانی جنگجو اور عام شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں تعینات امریکی فورسز پر حملہ کر دیا۔
ایرانی پاسداران انقلاب کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں 2 امریکی اڈوں کوبیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
خبررساں ایجنسی نے امریکی صحافی کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایرانی حملے میں کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ایران سے فائر کیے گئے تقریباً تمام میزائل فضا میں ہی ناکارہ بنا دیے گئے۔
دوسری جانب اردن کی مسلح افواج کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 8 میزائلوں کو مار گرایا۔
دریں اثناء برطانوی میری ٹائم ایجنسی یو کے ایم ٹی او نے کہا ہے کہ ہفتے کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک ٹینکر کو کسی نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
یو کے ایم ٹی او نے ایک ایڈوائزری نوٹ میں بتایا کہ یہ واقعہ عمان کے علاقے ‘خصب’ سے 12 ناٹیکل میل شمال میں پیش آیا۔ اس حملے کے نتیجے میں تاحال کسی قسم کے جانی نقصان یا ماحولیاتی نقصان کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔





