
جاپان میں نیشنل انٹیلی جنس بیورو نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔ چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے عالمی نیٹیزنز کے درمیان کیے گئے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ 84.8 فیصد شرکاء نے جاپان کی دائیں بازو کی قوتوں کی جانب سے انٹیلی جنس نظام کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں پر تنقید کی اور اسے جاپان کی جانب سے دوبارہ عسکریت پسندی، اور "نئی طرز کی عسکریت پسندی” کی جانب ایک اور خطرناک پیش رفت قرار دیا۔سروے کے مطابق 86.5 فیصد جواب دہندگان کا خیال ہے کہ یہ اقدام دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے جاپان کے انٹیلی جنس نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ 73.6 فیصد شرکاء نے خدشہ ظاہر کیا کہ نیشنل انٹیلی جنس بیورو مستقبل میں جاپانی حکومت کے لیے جنگ مخالف اور امن پسند حلقوں کو دبانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی طرح 83.2 فیصد جواب دہندگان کا کہنا ہے کہ جاپان کے انٹیلی جنس نظام کی اپ گریڈیشن مشرقی ایشیا کی سکیورٹی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے، جبکہ 87.6 فیصد شرکاء کے مطابق یہ اقدام جاپان کی جانب سے دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی نظم و نسق کی پابندیوں سے نکلنے اور دوبارہ عسکریت پسندی کو تیز کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔ یہ سروے سی جی ٹی این کے انگریزی، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی زبانوں کے پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا، جس میں 24 گھنٹوں کے دوران 3,028 نیٹیزنز نے حصہ لیا اور اپنی رائے کا اظہار کیا۔





