
مشہد(آئی پی ایس) ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی مشہد میں تدفین کردی گئی۔
آیت اللہ خامنہ ای کی نماز جنازہ کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے مصطفیٰ خامنہ ای نے کی جب کہ ان کے دیگر بھائی بھی پہلی صف میں موجود تھے تاہم موجودہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای شریک نہیں تھے۔
اس سے قبل ایرانی سرکاری ٹیلی وژن نے اعلان کیا تھا کہ مشہد میں علی خامنہ ای کے جنازہ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی پڑھائیں گے تاہم آج نوری ہمدانی کی عدم موجودگی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔
نماز جنازہ کے بعد دل گرفتہ سوگواروں نے اشکبار آنکھوں کے ساتھے شہید سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو پورے احترام و اعزاز سے سپرد خاک کیا۔ فضا دورد و سلام سے گونجتی رہی۔ سینہ کوبی اور آہ و بکا کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔
شہید سپریم لیڈر کو آخری الوداع کہنے کے لیے مشہد کی سڑکوں پر انسانوں کا سمندر امڈ آیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق شہید آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین اور جنازے کی 6 روزہ تقریبات تہران، قم، نجف، کربلا اور مشہد میں ہوئیں جس میں تقریباً4 کروڑ30 لاکھ افراد شریک ہوئے۔
ایرانی خبرایجنسی کا کہنا ہے کہ شہید آیت اللہ خامنہ ای کا تعزیتی اجتماع آج حرم حضرت معصومہ میں ہوگا، آج نماز مغرب و عشاء کے بعد تعزیتی اجتماع میں آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا جسدِ خاکی نجف سے ایران کے شہر مشہد پہنچایا گیا تھا، ایرانی فضائیہ کے طیاروں نے جسدِ خاکی لانے والے طیارے کو حصار میں لے کر مشہد ائیرپورٹ پہنچایا۔
اس سے پہلے آیت اللہ خامنہ ای کی میت کو کربلا میں حضرت امام حسیؓن اور حضرت عبّاس کے روضوں پر بھی لے جایا گیا تھا اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی، گورنر آفس کے مطابق جلوسِ جنازہ میں70 لاکھ سے زائد سوگواران شریک ہوئے تھے۔





