
بیجنگ : کوریا کی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور ریاستی امور کمیشن کے چیئرمین کم جونگ اُن کی دعوت پر سی پی سی کی مرکزی کمیٹی کے جنرل سیکرٹری اور عوامی جمہوریہ چین کے صدر شی جن پھنگ نے شمالی کوریا کا سرکاری دورہ کیا۔ جمعرات کے روز چینی میڈیا کے مطابق اس سال چین اور شمالی کوریا کے باہمی تعاون کے معاہدے پر دستخط کی 65 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے۔ یہ دورہ جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ کا سات سالوں میں شمالی کوریا کا پہلا سرکاری دورہ تھا اور رواں سال کا پہلا غیر ملکی دورہ بھی تھا۔ یہ نہ صرف چین اور شمالی کوریا کے درمیان اٹوٹ روایتی دوستی کی علامت ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ ترین سطح کی تزویراتی رہنمائی چین اور شمالی کوریا تعلقات کی سب سے بڑی قوت ہے۔ دورے کے دوران، دونوں جماعتوں اور ممالک کے اعلیٰ ترین رہنماؤں نے بات چیت کی اور نئے دور میں چین-شمالی کوریا تعلقات کو فروغ دینے پر اہم اتفاق رائے حاصل کیا۔
"سیاسی باہمی اعتماد کی بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے رہنما اصول کے طور پر اعلیٰ سطح کے تبادلوں پر عمل پیرا ہونا،” "عملی تعاون کی سطح کو بڑھانے کے لیے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے مقصد پر قائم رہنا،” "عوام کے رشتے کو مضبوط کرنے کے لیے محرک قوت کے طور پر دوستی کی وراثت پر کاربند رہنا،” "انصاف و مساوات کے اصولوں کی بنیاد پر تزویراتی تعاون کو مزید گہرا کرنا”—جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے مذکورہ چار نکاتی تجویز کے ذریعے نئے دور میں چین-شمالی کوریا تعلقات کی ترقی کے لیے ایک خاکہ پیش کیا اور رہنمائی فراہم کی۔ چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کو تجارت، زراعت، تعمیرات، سائنس و ٹیکنالوجی اور صحت کی دیکھ بھال میں عملی تعاون کو بڑھانا چاہیے اور دونوں ممالک کے شہریوں کے باہمی روابط میں اضافے کے لئے تبادلوں کو فروغ دینا چاہئے۔ ان اقدامات سے چین-شمالی کوریا تعاون کے معیار میں مزید اضافہ ہو گا اور دونوں ممالک کی جدید کاری کو فروغ ملے گا۔ ایک نئے نقطہ آغاز پر کھڑے ہوکر اور دونوں جماعتوں اور ممالک کے اعلیٰ ترین رہنماؤں کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے، چین-شمالی کوریا تعلقات یقیناً علاقائی اور عالمی امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے میں زیادہ سے زیادہ کردار ادا کریں گے۔





