
بیجنگ :امریکی محکمہ خزانہ نے ایک اعلامیے میں کہا کہ اس نے کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز-کینیل اور ان سے منسلک اداروں اور افراد کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے، جن میں صدر میگوئل ڈیاز-کینیل، ان کی اہلیہ اور سوتیلے بیٹے سمیت کیوبا کے انقلابی رہنما راؤل کاسترو کے بیٹے اور پوتے بھی شامل ہیں۔ کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز-کینیل نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام کیوبا پر عائد ناکہ بندیوں کو مزید سخت کرنے کے مترادف ہےاور کیوبا سامراجی جارحیت کے خلاف بھرپور مزاحمت جاری رکھے گا۔ کیوبا کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کی نئی پابندیاں "معاشی جارحیت” ہیں اور ان اقدامات کو جواز بنا کر مزید خطرناک کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جن میں کیوبا کے خلاف فوجی جارحیت کا خطرہ بھی شامل ہے۔اس حوالے سے چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ نے کیوبا پر اپنی ناکہ بندی اور پابندیوں کو مزید سخت کر دیا ہے، اور کیوبا کے رہنماؤں کو کھلے عام نامزد کیا ہے، جس سے اس کی تسلط پسندانہ اور طاقت کے زور پر کمزور ممالک پر دباؤ ڈالنے کی فطرت کو ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے۔ چین ان اقدامات کی شدید مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کا استحکام بین الاقوامی برادری کی مشترکہ خواہش ہے، اور کیوبا کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں بالآخر امریکہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ فوری طور پر کیوبا پر عائد ناکہ بندی اور تمام جبری پابندیاں اور دباؤ کو ختم کرے، اور کیوبا کے عوام کے بقا کے حق اور ترقی کے حق کی خلاف ورزی بند کرے۔ چین ہمیشہ کی طرح کیوبا کی قومی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ اور بیرونی مداخلت کے خلاف اس کی حمایت جاری رکھے گا۔





