بین الاقوامی

چینی فلمی صنعت دنیا کے لیے چین کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے،عالمی سروے نتائج

بیجنگ:ایک عالمی سروے نتائج کے مطابق چین کی فلمی صنعت دنیا بھر کے لوگوں کے لیے چین کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ یہ سروے سی جی ٹی این اور چین کی ایک معروف جامعہ رین من یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے کی جانب سے کیا گیا، جس میں 41 ممالک کے 12 ہزار سے زائد افراد شامل تھے۔
حالیہ برسوں میں چینی فلموں کے موضوعات اور اصناف میں نمایاں تنوع آیا ہے، جن میں مزاح، مارشل آرٹس، حقیقت پسندانہ کہانیاں، اینی میشن اور دیگر دلچسپ موضوعات شامل ہیں۔ اس تنوع کے باعث مختلف ناظرین کی دلچسپی کو مدنظر رکھتے ہوئے چین کی روایتی اور جدید زندگی کی حقیقی تصویر پیش کی جا رہی ہے۔ سروے کے مطابق چینی ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے ذرائع میں فلم اور ٹیلی وژن دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ ثقافتی تجربات میں یہ تیسرے نمبر پر رہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 81.6 فیصد افراد نے چینی ثقافت کے بڑھتے اثر و رسوخ کو تسلیم کیا، جبکہ 78.6 فیصد کے نزدیک چینی ثقافت کشش رکھتی ہے۔ اسی طرح 82.2 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ روایتی ثقافت کو سمجھنا چین کو بہتر طور پر جاننے میں مدد دیتا ہے، جبکہ 77 فیصد نے جدید ثقافتی پہلوؤں کو بھی اہم قرار دیا۔64.9فیصد نے روایتی ثقافت کے تحفظ اور جدت کے حوالے سے چینی فلموں اور ٹیلی ویژن کے کردار کو مثبت قرار دیا۔
رواں سال چینی فلموں کی مجموعی باکس آفس آمدن 12.5 ارب یوآن سے تجاوز کر چکی ہے، جو اس صنعت کی مضبوط ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق چینی فلمیں تہذیبی تبادلوں اور باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ چین کا پیش کردہ گلوبل سولائزیشن انیشی ایٹو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل کر رہا ہے، اور بڑی تعداد میں افراد چین کو تہذیبوں کے درمیان مکالمے اور عالمی نظم و نسق میں مثبت کردار ادا کرنے والی اہم قوت سمجھتے ہیں۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker