
تحریر:عمران ورک
بدلتی ہوئی عالمی سیاسی فضا میں پاکستان ایک ایسے اہم ملک کے طور پر ابھر رہا ہے جس کی جغرافیائی اور اسٹریٹیجک حیثیت اسے عالمی توجہ کا مرکز بنا رہی ہے۔ جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث پاکستان نہ صرف علاقائی سیاست میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے بلکہ بڑی عالمی طاقتوں کے لیے بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔
اسی تناظر میں سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ایران غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دورہ محض دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں بلکہ اسے خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ ثالثی کردار کے ایک اشارے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ غزہ اور بحیرہ احمر کی صورتحال بھی حساس ہے،پاکستان کا یہ اقدام متوازن خارجہ پالیسی کا مظہر ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ توازن، احتیاط اور مفادات کے امتزاج پر مبنی رہی ہے۔ ایک جانب خلیجی ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات، دوسری طرف چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری، اور ساتھ ہی ایران کے ساتھ روابط کو برقرار رکھنا ایک پیچیدہ مگر ضروری حکمت عملی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ اسی پالیسی کا عملی اظہار ہے، جس کے ذریعے پاکستان یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے کے بجائے رابطے قائم رکھنے اور اعتماد سازی میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
یہ دورہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ خطے کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے، جہاں سکیورٹی، معیشت اور سفارتکاری ایک دوسرے سے جڑی ہوئی حقیقتیں بن چکی ہیں۔ موجودہ دور میں محض عسکری طاقت یا اقتصادی قوت کافی نہیں بلکہ مؤثر سفارتکاری بھی اتنی ہی اہم ہو چکی ہے۔
سفارتی دنیا میں بعض اوقات علامتی اقدامات ہی مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔ اگر اس نوعیت کے رابطے تسلسل کے ساتھ جاری رہتے ہیں اور عملی تعاون میں ڈھلتے ہیں تو نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کی نئی راہیں بھی ہموار ہو سکتی ہیں۔
یوں سید عاصم منیر کا دورۂ ایران محض ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ اسے ایک اہم علاقائی سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس کا مقصد کشیدہ حالات میں رابطے برقرار رکھنا اور پاکستان کے جغرافیائی و سیاسی اثر و رسوخ کو مؤثر انداز میں بروئے کار لانا ہے۔




