بین الاقوامی

ڈائلیسز سینٹر کے ساتھ فیکٹریز ، جواب ہیں اس سوال کا کہ ” اچھی زندگی” کیا ہے

بیجنگ :فروری کی ایک دوپہر،چین کے جنوبی شہر گوانگ جو کے تیانہے ضلع میں واقع ڈائلیسز سروس سینٹر کے اوپر کی منزل پر کپڑوں کی ایک فیکٹری میں، 33 سالہ خاتون مزدور ژانگ لی اپنے ساتھیوں کے ساتھ "لائیو سٹریم” کے ذریعے اپنے ہاتھ سے بنائے گئے کپڑے کی فروخت کر رہی ہیں ۔ 2018ء کے شروع میں، جب یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے صرف ایک سال ہی گزرا تھا، تو انہیں گردے کی ناکامی (رینل فیلیئر) کے مرض کی تشخیص ہوئی، اور پھر انہیں ہفتے میں تین بار باقاعدہ ڈائلیسز کروانا پڑتا تھا۔ ژانگ لی کا تعلق صوبہ گوئی جو کے ایک پہاڑی گاؤں سے ہے ، جہاں طبی سہولیات محدود ہیں ۔ سو ڈائلیسز کے لیے شہر جانا پڑتا تھا، جو گاؤں سے دو گھنٹے کے فاصلے پر تھا ۔ آج، ژانگ لی نے گوانگ جو کے اسی ڈائلیسز سینٹر کے اوپر واقع فیکٹری میں کام کرنےکا انتخاب کیا ہے۔ وہ دن میں کام کرتی ہیں اور لائیو سٹریم کرتی ہیں، اور رات کو فیکٹری سے نیچے اتر کر ڈائلیسز کراتی ہیں۔

ایک ہی عمارت میں اوپری منزل پر کام اور نیچے علاج کے نظام میں، انہوں نے زندگی پر اعتماد دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔2023ء میں قائم ہونے والی اس فیکٹری میں ملک بھر سے آنے والے 20 سے 50 سال کی عمر کے گردے کے مریض کام کرتے ہیں ۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ گوانگ جو میں پہلے سے موجود متعدد ڈائلیسز سروسز بھی اسی ماڈل کو اپنانے لگے ہیں۔ یہ ادارے پیشہ ورانہ طبی خدمات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ، ہنر مند ورکشاپس قائم کر کے یا بیرونی فیکٹریوں کے ساتھ روابط قائم کر کے، گردے کے مریضوں کے لیے مستحکم روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ ژانگ لی اور ایسے لاکھوں نوجوان مریضوں کے لیے، یہ صرف علاج کی جگہ نہیں بلکہ وقار کی بحالی اور معاشرے میں دوبارہ شمولیت کی امید کی جگہ ہے۔جب ایک انٹرنیٹ صارف نے ژانگ لی اور ان کے ساتھیوں کی یہ کہانی پڑھی، تو اس نے تبصرہ کیا: "چینی طرز کی جدیدیت (چائنیز ماڈرنائزیشن) کیا ہے؟ یہی ہے چینی طرز کی جدیدیت، یہی ہے سوشلزم!”درحقیقت، سیاست کی کسی پیچیدہ وضاحت کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ چھوٹی سی فیکٹری، جو ڈائلیسز سینٹر کے اوپر قائم ہے، چین کو نہ سمجھنے والے لوگوں کو مدد دے سکتی ہے کہ وہ مزکورہ انٹرنیٹ صارف کے احساسات کی سچائی کو سمجھیں ۔ سیاست محض بڑے بڑے نعروں کا مجموعہ نہیں ہونی چاہیے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خوشحال زندگی کی تلاش میں کسی کو پیچھے نہ چھوڑا جائے۔ چاہے کوئی کتنی ہی مشکل میں کیوں نہ ہو اسے باوقار روزگار اور امید کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع ملنا چاہیے۔چین میں، ژانگ لی جیسے دس لاکھ سے زائد افراد ہیں جن کی زندگی کا دارومدار ہفتے میں کئی بار ڈائلیسز پر ہے۔ یہ علاج پہلے نہایت مہنگا اور وقت طلب تھا۔ ماضی میں، بہت سے مریض یا تو اپنی تمام جمع پونجی علاج پر خرچ کر دیتے تھے، یا بے بسی میں گھر بیٹھ کر اپنی قسمت کے فیصلے کا انتظار کرتے تھے۔ ایک مستحکم ملازمت تلاش کرنا ان کے لیے بہت مشکل تھا ،کیونکہ کوئی بھی آجر ایسا ملازم نہیں چاہتا جو بار بار ڈائلیسز کے لیے رخصت لے۔ جسمانی کمزوری بھی انہیں عام روزگار کی دوڑ سے باہر رکھتی تھی ۔ لیکن گزشتہ چند سالوں سے، چین کی میڈیکل انشورنس پالیسی ان مریضوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ حکومت نے ڈائلیسز سے متعلقہ اخراجات کے لیے خصوصی پالیسیاں جاری کیں، غیر ضروری اخراجات ختم کیے، اور میڈیکل انشورنس کے ذریعے بہت سی جگہوں پر فی ڈائلیسز لاگت کو چند یوآن تک کم کر دیا، تاکہ عام لوگ بھی اس طریقہ علاج کو برداشت کر سکیں۔اس کےساتھ ساتھ ، پورا معاشرہ یہ یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے کہ مریض صرف علاج ہی نہ کروائیں، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق کام بھی کریں۔ اپنی کمائی سے اپنے علاج اور اخراجات برداشت کرنا، محض امداد دینے سے کہیں زیادہ اہم ہے ۔یہ ایک ایسا احساس ہے جس میں متاثرہ افراد پر ترس نہیں کھایا جاتا ، بلکہ اس میں ضرورتوں کا پورا ہونا اور ہر شخص کے وقار کا خیال رکھنا شامل ہوتا ہے۔ گوانگ جو میں "گردے کے مریضوں کی فیکٹری” کا یہ ماڈل اسی پس منظر میں سامنے آیا ہے ۔ اس میں کوئی خاص سرکاری سہارا یا کسی انفرادی شخص کی ہمدردی کے لبادے میں چھپی شان و شوکت کا عمل شامل نہیں، بلکہ صرف اتنا ہے کہ فیکٹری کو ڈائلیسز سینٹر کے بالکل اوپر قائم کر دیا گیا ، تاکہ مریضوں کو ہسپتال اور فیکٹری کے درمیان بھاگ دوڑ کی ضرورت نہ پڑے۔ 33 سالہ ژانگ لی نے یہاں اپنی "معمول کی زندگی” دوبارہ پائی ہے۔ وہ صبح 9 بجے کام پر آتی ہیں، دوپہر کو لائیو سٹریم کرتی ہیں، اور شام کو نیچے ڈائلیسز کے لیے جاتی ہیں۔ اب انہیں اپنے کام کی جگہ پر اپنی بیماری چھپانے کی ضرورت نہیں، نہ ہی یہ فکر رہتی ہے کہ ڈائلیسز کی وجہ سے کام متاثر ہو گا۔اسی فیکٹری میں ایک 18 سالہ لڑکی، شیاؤ چانگ بھی ہے، جس کا "شیف ” بننے کا خواب یوریمیا (Uremia) جیسی بیماری کی وجہ سے پورا نہ ہو سکا ۔ یہاں، وہ کپڑوں کی کٹنگ کا کام کرتی ہے اور گھریلو اخراجات میں اپنے گھر والوں کی مدد کرتی ہے ۔ اس چھوٹی سی فیکٹری میں اس کی زندگی کی بھی نئی امید چھپی ہے۔انٹر نیٹ صارف نے "چینی طرز کی جدیدیت” اور "سوشلزم” کے بارے میں جو کہا، اس کے بہت سے معنی ہو سکتے ہیں، لیکن اس میں سب سے سادہ تصور یہ بھی شامل ہے کہ خوشحالی کی تلاش میں کسی کو نہیں چھوڑنا چاہیے، اور بیماری کی وجہ سے کسی کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ایک اچھا نظام صرف بلند و بالا عمارتوں، خلائی جہازوں، مصنوعی ذہانت اور روبوٹس تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے یہ بھی یقینی بنانا چاہیے کہ مشکل حالات میں مبتلا لوگوں کو بھی روزگار ملے اور ان کا وقار ملے، اور وہ اپنے ہاتھوں سے اپنی امیدوں کو سہارا دے سکیں۔ مزکورہ فیکٹریوں کے مزدور زیادہ تر دور دراز دیہات سے آئے ہوئے افراد ہیں ، جنہیں بیماری نے مایوسی کا شکار کر دیا تھا ۔ "گردے کے مریضوں کی فیکٹری” کے طور پر جانے جانے والے ان محبت بھرے اداروں نے انہیں نئی امید دی۔ یہ لوگ خود کو "گردے کے مریض” کہلانا پسند نہیں کرتے، بلکہ ایک دوسرے کو "ساتھی ” کہتے ہیں۔ یہ پکار اس لیے اہم ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ یہ لوگ مریض نہیں جو صرف دیکھ بھال کے طلب گار ہیں، بلکہ وہ محنت کش ہیں جو قدر پیدا کرتے ہیں اور معاشرے کے عام افراد کے برابر ہیں۔ بعض اوقات، "عام” ہونا بھی نہایت قیمتی ہوتا ہے۔کوئی پیچیدہ نظریہ، نہ ہی کوئی دانستہ تشہیر۔ چین کے شہروں میں ڈائلیسز سینٹرز کے اوپر موجود یہ چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں، "اچھی زندگی” کے چینیوں کے سمجھے ہوئے فلسفے کی عکاس ہیں۔ فلسفہ بھی انتہائی سادہ ۔ علاج کا بوجھ ہلکا ہو ، روزگار کا موقع ملے ، تاکہ ہر شخص اپنی طاقت سے وقار اور امید کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ شاید یہی”چینی طرز کی جدیدیت” اور "سوشلزم” کی سب سے پراثر جذباتی وضاحت ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker