
بیجنگ :12 مارچ کو چین کاقومی یوم شجرکاری منایا جاتا ہے ۔ خوشگوار موسم بہار شجرکاری کا درست وقت ہے۔ وسیع وعریض چینی سرزمین پر شجرکاری کی مہم عروج پر پہنچ رہی ہے ۔ شہر کے پارکس سے لے کر دیہی پہاڑوں تک، سرکاری اہلکاروں سے لے کر عام شہریوں تک، رضاکارانہ شجرکاری کی سرگرمیاں جوش و خروش کے ساتھ جاری رہتی ہیں ۔جب ایک ایک پودے کو زرخیز زمین میں لگایا جاتا ہے تو خوبصورت چین کی تعمیر میں نئی زندگی کی بنیاد رکھی جا تی ہے ۔شجر کاری ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کا ایک اہم حصہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد سے،
صدر شی جن پھنگ ہر سال دارالحکومت بیجنگ میں کارکنوں اور شہریوں کے ساتھ درخت لگانے کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں ۔ اپریل 2025 میں، صدر شی جن پھنگ نے بیجنگ میں رضاکارانہ درخت لگانے کی ایک سرگرمی کے موقع پر تاکید کی کہ تمام علاقوں اور محکموں کو مزید اقدامات کرنے چاہئیں، اہل کاروں اور عام شہریوں کو متحرک اور منظم کرنا چاہیے تاکہ وہ شجر کاری اور سبزہ کاری میں فعال حصہ لیں، سبز ترقی کے تصور پر عمل کریں، اور ماحولیاتی ثقافت کو فروغ دیں۔چینی طرز کی جدیدیت انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی پر مبنی جدیدیت ہے، جس میں سبز ترقی کی خصوصیات زیادہ واضح ہیں۔ سب لوگوں کی جانب سے درخت لگا کر سبزے کو بڑھانے کی بھر پور کوشش اسی جدید راستے کی عملی نمائندگی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں چین میں 127 ملین مو زمین کو سبز بنانے کا کام مکمل ہو چکا تھا ۔ جس میں 53.45 ملین مو رقبے پر نئے جنگلات لگائے گئے جبکہ 73.9 ملین مو تباہ شدہ چراگاہوں کی بحالی کی گئی ۔ اس وقت ملک بھر جنگلات کا رقبہ 25.09 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا کے نئے سبز علاقے کے رقبے میں تقریباً 25 فیصد حصہ ڈالتا ہے جس نے چین کو دنیا کا سب سے تیز اور زیادہ سبز ہ بڑھانے والا ملک بنا دیا ہے ، جبکہ مصنوعی جنگلات کے رقبے کے اعتبار سے چین دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ریگستانی اور ریتیلی زمینوں کے رقبے ،دونوں میں مسلسل کمی آرہی ہے ، اور دنیا میں چین پہلا ایسا ملک بن گیا ہے جہاں زمین کی بگڑتی حالت کو روک کر اس میں "صفر اضافہ ” حاصل کیا گیا ہے ۔صحرائے تکلمکان کے گرد ‘سبز اسکارف’ باندھنے سے لے کر کورچن کے ریتیلے علاقے میں دوبارہ گھاس کے میدانوں کا منظر تخلیق کرنے تک، اور سیہانبہ میں ‘ویران زمین کو جنگل میں بدلنے’ کا سبز معجزہ تخلیق کرنے سے لے کر ” تھری نارتھ شیلٹر بیلٹ پروگرام ” میں نمایاں کامیابی کے حصول تک ، پورے چین پر نظر ڈالیں تو ہر جگہ سبز رنگ نمایاں نظر آتا ہے اور لوگ ماحول کی مسلسل بہتری کے باعث خوشی کو براہِ راست اور حقیقی طور پر محسوس کر رہے ہیں۔
آسمان زیادہ نیلا ہے ، پہاڑ سبز ہیں ، پانی صاف ہے اور کھڑکی کھولیں تو سبز مناظر ،پرندوں کی آوازیں اور پھولوں کی خوشبو کے احساس کا عمومی منظر اب ہر جگہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک میں یومِ شجرکاری منایا جاتا ہے، مگر چین ایک نئے اور اختراعی انداز میں “رضاکارانہ شجرکاری” کے تصور کو نئی شکل دے رہا ہے۔ یہ صرف ایک ماحولیاتی سرگر می نہیں، بلکہ عوامی شرکت کا ایک جدت سے بھرپور جشن بھی ہے ۔ اگر روایتی طور پر پودے لگانے کے لیے "پہاڑ پر بیلچہ اٹھا کر شدید پسینہ بہانا” ضروری تھا ، تو آج کے چین میں بعض اوقات صرف انگلیوں کی جنبش بھی درخت لگانے میں حصہ ڈال سکتی ہے ۔ٹیکنالوجی نے شجرکاری کو نئی پرواز دی ہے۔ ڈرونز پر مشتمل "فضائی شجرکاری ٹیمیں”دشوار گزار ڈھلوانوں پر درستگی کے ساتھ پودے اگاتی ہیں۔ جنگلاتی ماہرین تھری ڈی ڈیٹا پلیٹ فارم کے ذریعے دور بیٹھ کر جنگلات کی افزائش کی نگرانی کرتے ہیں۔2017 میں شروع ہونے والی "قومی رضاکارانہ شجرکاری ویب سائٹ” پر اب تک 465 ملین سے زیادہ وزٹس ہو چکے ہیں ۔
ضوابط کے مطابق عوام اپنی ذمہ داری مختلف طریقوں سے ادا کر سکتے ہیں جن میں شجرکاری اور سبز کاری ، پرورش اور دیکھ بھال ، قدرتی تحفظ، پودے لگانا اور ان کی پرورش ، سہولیات کی تعمیر، فنڈز اور سامان کا عطیہ، رضاکارانہ خدمات اور دیگر اقسام شامل ہیں۔سادہ الفاظ میں کہیں تو یہ دو طریقوں کا انتخاب ہے ۔ یا محنت کریں یا مالی تعاون ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ہر جگہ اپنی مقامی حالت کے مطابق جدت کے عملی تجربات کیے جا رہے ہیں۔بیجنگ میں شہری اگر اپنے گھر کے صحن، چھت، دیواروں وغیرہ کی جگہوں پر 3 مربع میٹر پودے یا سبز چیزیں اگائیں، یا ‘صحن میں ایک درخت ، یا 1 مربع میٹر بالکونی میں سبزیاں لگائیں، تو یہ سب 3 درخت لگانے کے برابر شمار کیے جائیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے گھر کی بالکونی میں چند پودے رکھنا بھی درخت لگانے کی ذمہ داری پورا کرنے کے مترادف ہے ، یوں شجرکاری کا یہ کام واقعی عام لوگوں کے گھروں تک پہنچ گیا ہے۔ملک گیر سطح پر درخت لگانا اور سبزہ بڑھانا ،لوگوں کی شراکت اور اشتراک پر منحصر ہے ۔
سبز ے کی توسیع اور ماحول کی بہتری نہ صرف لوگوں کی زندگی کے معیار کو بڑھاتی ہے بلکہ لوگوں کے خیالات اور تصورات کو بھی بدل رہی ہے۔ عوام کی بڑی اکثریت یہ سمجھ رہی ہے کہ سبز ہ زندگی کی علامت ہے، سبز ہ خوشی ہے، سبز ہ بڑھا نے کا مقصد فوائد میں اضافہ کرنا ہے ، اور سبز ہ کا تحفظ دولت کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ یہ نیا طرز زندگی اور نئے تصورات لوگوں کے دلوں میں بس گئے ہیں جو ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے اتفاق رائے اور مشترکہ قوت پیدا کرتے ہیں۔خوبصورت چین کی تعمیر پر عوام کا اعتماد اور ماحولیاتی تہذیب کی تعمیر کے لیے ان کا پختہ عزم یقینی طور پر خوبصورت چین کی نئی تصویر پیش کرے گا، اور انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگ بقائے باہمی کی جدید کاری کے خاکے کو قدم بہ قدم حقیقت بنائے گا۔





