کراچی(آئی پی ایس)سندھ ہائی کورٹ نے پولیس اور دیگر اداروں کو حلیم عادل کے خلاف غیرقانونی کارروائی سے روکنے کا حکم برقرار رکھتے ہوئے دیگر اہل خانہ کو بھی ہراساں کرنے سے روک دیا۔

 

پی ٹی آئی کے رہنما حلیم عادل شیخ کے گھر پولیس چھاپے اور خفیہ مقدمات کے اندارج کے خلاف درخواست پر سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔عدالت کے حکم پر حلیم عادل شیخ سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے۔جسٹس کے کے آغا نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے حلیم عادل شیخ کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں؟پراسیکیوٹر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حلیم عادل شیخ کے خلاف مقدمات کی تعداد کا معلوم نہیں، جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دی جائے۔

 

عدالت نے ایف آئی اے، نیب اور اینٹی کرپشن پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کیسز درج ہیں یا انکوائری جاری ہے تو جواب جمع کرایا جائے۔ایف آئی اے، نیب، اینٹی کرپشن نے بھی جواب جمع کرانے کے لیے مہلت مانگی جس پر سندھ ہائی کورٹ نے پولیس، اینٹی کرپشن، ایف آئی اے اور نیب کو آخری مہلت دے دی۔سندھ ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت، وفاقی حکومت، نیب، ایف آئی اے اور دیگر سے جواب طلب کر لیا

 

جبکہ نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے متعلقہ افسران کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔عدالت نے حلیم عادل کے خلاف درج مقدمات اور انکوائریوں کی تفصیلات بھی طلب کر لیں اور آئندہ سماعت پر حلیم عادل شیخ کو حاضری سے استثنیٰ دے دیا۔عدالت نے فریقین کو 22 دسمبر کو تحریری جواب جمع کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

 

سندھ ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آج پوری قوم عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے، میرے اوپر مختلف نوعیت کے 28 مقدمات بنائے جا چکے ہیں۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پچھلے ہفتے گھر پر شادی بھی تھی اور چھاپوں کا سلسلہ بھی جاری تھا، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا جو اس زرداری مافیا کے دور میں ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ درخواست میں یہی اپیل کی گئی ہے کہ بتایا جائے کہ مجھ پر اور کتنے مقدمات ہیں، مجھے عدلیہ سے انصاف کی اُمید ہے۔