اسلام آباد(آئی پی ایس)وزیر اعظم کے مشیر برائے اُمور کشمیر و گلگت قمرزمان کائرہ نے 27 اکتوبریوم سیاہ کشمیر کے حوالے سے اپنے خصوصی پیغام میں کیا ہے کہ آج مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو 75 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ یہ 27 اکتوبر1947ء کا ہی دن ہی تھا جب بھارتی حکومت نے جموں وکشمیر کی ریاست کے ہندو حکمران مہاراجہ کے ساتھ ساز باز کرتے ہوئے بھارتی افواج کو طاقت کے بل بوتے پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں داخل کیا اور عوام کی خواہشات کے عین برعکس مقبوضہ جموں وکشمیر پر غیر قانونی قبضہ کر لیا۔اُنہوں نے کہا کہ آج اس غیر قانونی قبضے کوسات دہائیاں گزرچکی ہیں او ر اس تمام عرصے میں بھارت نے کشمیریوں کے عزم کو توڑنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے لیکن کشمیریوں کی بہادری اور عزم نے مسئلہ کشمیر کودُنیا کی توجہ کا مرکز بنا ئے رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت بھارت کے پاس مقبوضہ جموں وکشمیر میں مداخلت کاکوئی جواز نہیں ہے اور بھارت کشمیر پر کسی قسم کا دعوی نہیں کرسکتا۔ مشیر اُمور کشمیر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر پر بھارتی قبضہ غیر قانونی ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جینواکنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تین سال قبل بھارت نے اپنے ہی آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کی صورت میں کشمیریوں سے کیے گئے ا پنے اُس عہد سے بھی مکر گیا جس کے تحت اس نے مقبوضہ جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دے رکھی تھی۔

قمر زمان کائر ہ نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنے حقوق سے محروم کرنے کے بعدبھارت نے اب مقبوضہ جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک گھٹیا مہم شروع کردی ہے،بھارت نے پہلے ہی غیر کشمیری باشندوں کو لاکھوں کے حساب سے ڈومیسائل جاری کردیے ہیں اور اسی طرح جائیداداورحق ملکیت کے قوانین میں بھی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے مسلما نوں کو نقصان پہنچانے کے لیے انتخابی حد بندیوں میں بھی ایسی تبدیلیاں کی ہیں کہ تناسب کے حوالے سے ہندو اکثریتی علاقوں کو زیادہ ناجائز طور پر نشستیں دے دی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسی طرح عارضی رہائش پذیر غیر کشمیریوں کو انتخابی ووٹرلسٹوں میں شامل کر دیا ہے تاکہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے انتخابات میں بھارت اپنے عزائم کے حوالے سے جوڑ توڑ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام اقدامات بھارتی حکومت اور انتظامیہ کی بھرپور مدد سے کیے جارہے ہیں اور ان قابل مذمت اقدامات کا مقصد مقبوضہ جموں وکشمیر پر ایک ہندو وزیراعلیٰ کو نافذ کرنا ہے۔

مشیر اُمور کشمیر نے کہا کہ 1947 سے لے کر آج تک ہزاروں نہتے کشمیریوں کو شہید کرنے کے باوجود بھارت نے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت سوز مظالم میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 5 اگست 2019 ء کے بعد سے بھارت نے گزشتہ تین سالوں میں 690 سے زائدکشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کے واقعات میں شہید کیا ہے جن میں سے 170 افرادکو صرف اس سال میں بھارتی قابض افواج نے شہید کیا ہے انہوں نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے نام نہاد مقابلوں اور سرچ آپریشنزمیں روزانہ نہتے کشمیری نوجوانوں کو شہید کرنا ایک معمول کی کاروائی بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تقریبا تمام کشمیری سیاسی قیادت کو بھارت نے غیر قانونی طورپر قید کر رکھا ہے اور اُن کو بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر جھوٹے مقدمات میں سزا ئیں دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حریت رہنما یسین ملک شدید علیل ہیں،سید علی گیلانی کے داماد الطاف احمد شاہ کینسر کے باعث طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ابھی حال ہی میں بھارتی جیل میں شہیدہو گئے اور میرواعظ عمر فاروق بھی گھر پر نظر بند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح آسیہ اندرابی،شبیر احمد شاہ اور مسرت عالم سمیت دیگر کشمیری رہنما بھی بھارتی قید میں ہیں اور جموں و مقبوضہ کشمیر میں میڈیا کو بھی دھمکیوں،انتقامی کاروائیوں اورسینسرشپ سے دبا دیا گیا ہے۔

قمر زمان کائرہ نے کہاکہ بی جے پی اور آرایس ایس کے گٹھ جوڑنے اپنے امن مخالف اور مسلمان مخالف ہندتوا ایجنڈے کی تکمیل کے لیے جنوبی ایشیاء کو غیر مستحکم کر دیا ہے اورخطے کے 1.8 ارب لوگوں کے امن کو شدید خطرات سے لاحق کر دیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یہ جان لینا چاہیے کہ خطے میں دیرپا امن،سلامتی اور ترقی کا انحصار صرف اور صرف جموں وکشمیر کے مسئلے کے پرُامن حل میں ممکن ہے

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ اپنے کشمیری عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہیں اور آج یوم سیاہ کے اس دن پر بھی ہم اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں سے بھرپور یکجہتی اور حمایت کا اظہار کرتے ہیں۔مشیر اُمور کشمیر نے زور دیا کہ عالمی برادری کو بھارت کی مذمت کرنی چاہیے اس کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں سنگین جرائم کے لیے جواب دے ٹھہرانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ،او آئی سی اور دیگر انسانی حقوق کے اداروں کو جموں وکشمیر تنازعے کے شفاف اور پرُامن حل کے لیے بھارت پردباؤ ڈالنا چاہیے۔

اُنہوں نے کہاکہ بھارت کو مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو روکنا ہو گا،5 اگست2019 کے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کو واپس لینا ہوگا اور کشمیریوں کو اُ ن کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق حق خودارادیت دینا ہوگا۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ کشمیر کی عوام کی آزادی تک پاکستان کشمیریوں کی ہر قسم کی اخلاقی،سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا