لاہور(آئی پی ایس) بھارت نے اجمیر میں صوفی بزرگ خواجہ معین الدین چشتی کی درگارہ پر حاضری کے خواہشمند پاکستانی زائرین کو ویزے جاری کر دیے۔ ترجمان وزارت مذہبی امور کے مطابق 488 افراد کے پاسپورٹ بھجوائے گئے تھے جن میں سے صرف 249 زائرین کو ویزے جاری کیے گئے۔

 

ترجمان کا کہنا تھاکہ زائرین کی دیکھ بھال کیلئے 6 آفیشلز میں سے صرف ایک کو ویزا جاری کیا گیا۔ اجمیر شریف کے تمام زائرین کو بذریعہ میسج اطلاع کر دی گئی اور ویزا کے حامل زائرین کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔دوسری جانب اجمیر شریف راجستھان میں خواجہ معین الدین چشتیؒ کے 801 ویں سالانہ عرس کا آغاز ہوگیا۔ جہاں دنیا بھر سے زائرین شرکت کیلئے پہنچ رہے ہیں۔

 

رپورٹ کے مطابق درگاہ اجمیر شریف کا جنتی دروازہ بھی گزشتہ صبح کھول دیا گیا۔تقریب کا آغاز خواجہ صاحب کی درگاہ کے پیچھے پہاڑ پر واقع پیر صاحب کی پہاڑی سے توپ داغ کر اور شادیانے اور نقارے بجاکر کیا گیا اور اسی کے ساتھ عرس کی رسمیں بھی شروع ہوگئیں۔

 

درگاہ کے دیوان کی صدارت میں رات 11 بجے سے صبح 4 بجے تک محفل سماع و غسلِ مزار اقدس و فاتحہ خوانی کی پہلی محفل منعقد ہوئی۔ درگاہ میں صوفیانہ کلاموں اور شاہی قوالیوں کے دور کے درمیان 5 رجب (28 جنوری) تک ہر روز رات 11 بجے سے صبح 4 بجے محفل سماع و غسلِ مزار اقدس و فاتحہ خوانی کی محفلوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

 

چھ رجب بمطابق یکم فروری کو 29 جنوری کو قل کی محفل کا انعقاد ہوگا اور دیگر رسومات ادا کی جائیں گی۔ یکم فروری کو نویں کا قل صبح 5 بجے سے دوپہر 11 بجے تک جاری رہے گا۔ اس دوران پورے درگاہ احاطے کو کیوڑے کے پانی سے دھویا جائے گا اور اس بڑے قل کے ساتھ ہی عرس اختتام پذیر ہو جائے گا۔درگاہ میں واقع جنتی دروازہ جو پیر کی صبح زائرین کے لیے کھولا گیا ہے وہ آئندہ چھ روز کے لئے کھلا رہے گا۔ چھٹی کے قل کی رسم کے ساتھ جنتی دروازہ بند کر دیا جائے گا۔درگاہ کی انجمن کمیٹی سید زادگان کے سیکریٹری سید سرور چشتی اور پولیس سپرنٹنڈنٹ چونا رام نے عرس کے دوران اجمیر پہنچنے والے زائرین اور مقامی باشندوں سے کہا کہ وہ عرس کے دوران امن و امان اور ہم آہنگی برقرار رکھیں اور سماج دشمن عناصر سے ہوشیار رہیں۔