تازہ ترینپاکستانتجارت

آئی ایم ایف کی مزید 215ارب کے ٹیکسز ، پٹرولیم لیوی 50سے 60روپے کرنے کی شرط تسلیم

اسلام آباد (آئی پی ایس ) وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کی مزید 215 ارب روپے کے ٹیکسز کی شرط تسلیم کرلی،اس کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر نہیں پڑے گا، ہم نے یہ بھی مان لیا ہے کہ جاری اخراجات میں 85ارب روپے کی کمی کریں گے، لیکن یہ کٹوتی نہ ہی ترقیاتی بجٹ میں ہوگی نہ ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کمی ہوگی نہ ہی پینشنز میں کمی کی جائیگی، سپر ٹیکس گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا اور اسے مزید بہتر بنایا گیا، 300 ملین سے بڑھا کر اسے 500 ملین روپے تک کیا گیا ہے اور اسے جو ادا کرسکتے ہیں صرف ان پر لاگو ہے، آئی ایم ایف سے ایگریمنٹ ہوجائے توبسم اللہ نہ ہو گزارا تو ہو ہی رہا ہے، آئی ایم ایف نے ہماری بات مان لی ہے، 215 ارب روپے کے نئے ٹیکسز کی وجہ سے اب ایف بی آر ٹیکسز کا ہدف 9 ہزار 200 ارب روپے سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب کردیا گیا ہے، صوبوں کا حِصہ 5 ہزار 276 ارب سے بڑھ کر 5 ہزار 390 ارب ہوجائے گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت اجلاس اظہارخیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ایک طرف 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کی خبر دی تو دوسری طرف کہا کہ اب تاجروں اور انڈسٹری کے مسائل کا خاتمہ ہو جائے گا۔وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے بجٹ تجاویز میں ہونے والی ترامیم بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ ہمارے ساتھیوں نے حج کیلئے جانا ہے کل ہم نے ایک خصوصی حج فلائٹ ایرینج کی ہے ، جو کہ سعودی پروٹوکول اور اتھارٹی کے ساتھ طے ہے ، ورنہ 22 سے 23 کے درمیانی شب بند کر دی گئی ہیں، الحمد اللہ حجاج منی میں جارہے ہیں، کل صبح سویرے فلائیٹ ہے، جنہوں نے فیصلہ کیا ہے وہ تیار رہیں، وہاں ہمارے لیے دعا کریں، ان کی آواز بھی اس میں شامل ہو گی ، اس کے نتیجے میں پاکستان کے چند سالوں سے سامنے آنے والے مسائل سے اللہ ہمیں نجات دے ۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ پر معزز ارکان کی تجاویز پر غور کیا، میں بلاول بھٹو، راجا ریاض اور تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اراکین نے تنقید کے ساتھ تجاویز بھی پیش کیں، خواتین اراکین نے بھی بجٹ بحث میں بھرپور حصہ لیا، تمام تجاویز پر مختلف شعبہ ہائے زںدگی کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، آبی سیکیورٹی، بڑھتی آبادی کی روک تھام، ای او بی آئی کی پنشن، روس سے تجارت، بلوچستان، فاٹا اور پاٹا کی ترقی کے لیے بہترین تجاویز اس ایوان کو دی گئیں۔ سینیٹ نے بھی بہت مفید تجاویز دیں، میں سینیٹرز کا بھی مشکور ہوں۔انہوں نے کہا کہ ڈیویڈنٹ پر 15 فیصد اور بونس شیئر پر 10 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارشات ہمارے لیے مشعل راہ ہیں، سینیٹ کی 59 میں سے 19 سفارشات عمومی نوعیت کی تھیں، سینیٹ کی متعدد تجاویز کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سینیٹرز نے سود کے خاتمے کی سفارش پیش کیں، دفاعی بجٹ میں اضافے سے متعلق بھی تجاویز آئیں، شمسی توانائی کے شعبے کے فروغ سمیت 59 تجاویز ہیں۔
ایوان بالا کی جانب سے مجموعی طور پر 59 سفارشات آئیں ان میں سے 19 جنرل نوعیت کی تھیں، معزز ممبران سینیٹ نے بجٹ بحث کے دوران بھی اپنی تجاویز پیش کیں، جن میں میں سود کے خاتمے ، دفاعی بجٹ میں اضافہ ،غیر ضروری اخراجات پر کنٹرول ، لیپ ٹاپ سکیم ، ووکیشینل ٹریننگ ، نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ، یوٹیلیٹی سٹورز پر اشیاکی سستے داموں فراہمی ، بیج کھاد اور شمسی توانائی کی پیدوار پر سبسڈی، صحت کے محکمے کا بجٹ بڑھانا ، آئی ٹی کا فروغ شامل ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ سپر ٹیکس گزشتہ سال متعارف کرایا گیا تھا، اسے مزید پروگریسیو کیا گیا ہے، سپر ٹیکس کو 300 ملین سے بڑھا کر 500 ملین روپے تک کیا گیا ہے، سپر ٹیکس ان لوگوں پر عائد کیا گیا جو ادا کرسکتے ہیں۔اسحاق ڈار کے مطابق نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے سے متعلق تجاویز دی گئیں، سپر ٹیکس کچھ تبدیلیوں کے ساتھ برقرار رہے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض ممبران نے بونس شیئر پر ٹیکس لگانے کی مخالفت کی ہے، کمپنیاں شیئر ہولڈرز کو کیش اور بونس شیئرز کی شکل میں جاری کرتی ہیں، جیسے شیئر ہولڈرز سٹاک ایکسچینج میں اپنے شیئرز بیچ سکتے ہیں اور نقد رقم حاصل کر سکتے ہیں، پہلی صورت میں شیئر ہولڈر موصول ہونے والے نقد کیش پر پندرہ فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں ، دوسری صورت میں بونس شیئر کی صورت میں ملتاہے تو اس پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوتا اس صورت میں ہم نے کیش ڈیویڈنٹ اور بونس شیئر دونوں پر ٹیکس لگا دیا ہے، ساتھ ہی بونس شیئر کیلئے کم شرح رکھی ہے ، اس کیلئے 10 فیصد تجویز کی گئی ہے۔ جب بجٹ پاس ہوگا تو لاگو ہو جائے گی، یہ ٹیکس کمپنی نہیں بلکہ جس کو بونس شیئرز ملیں گے وہ ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگوں نے انکم ٹیکس آرڈیننس میں متعارف کروائے گئے 99 ڈی سیکشن پر تحفظات ظاہر کیے ہیں، جو وفاقی حکومت کو اس شخص سے پچاس فیصد اضافی ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دیتا ہے جس نے اس سے خارجی عوامل کی وجہ سے غیر متوقع منافع کمایا ہو، اس کا ہدف خاص شخص یا کمپنی نہیں ہے ، اگر حکومت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ایسے شعبے نے خارجی عناصر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر متوقع منافع کمایا ہے تو یہ ٹیکس پورے شعبے پر لگایا جائے گا نہ کی کسی ایک کمپنی پر ۔یہ کارپوریٹ سیکٹر ہو گا ، یہ کسی انفرادی شخصیت پر نہیں ہوگا۔

 

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker