پاکستان

حافظ نعیم کی میئر کراچی کا الیکشن روکنے کی درخواست مسترد

کراچی (آئی پی ایس)سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے میئر کے براہ راست انتخاب سے متعلق الیکشن نوٹیفکیشن کی معطلی سے متعلق حافظ نعیم الرحمان کی درخواست مسترد کر دی۔

عدالت عالیہ نے ریمارکس دیے کہ اگر پٹیشن منظور کی تو جو غیر منتخب نمائندہ میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین جو بھی ہوگا وہ ہٹ جائے گا۔ فی الوقت تمام امیدوار الیکشن میں حصہ لے سکتے ہیں۔

جسٹس یوسف علی سعید اور جسٹس محمد عبد الرحمان پر مشتمل دو رکنی بنچ کے روبرو کراچی کے میئر کے لیے براہ راست انتخاب سے متعلق قانون سازی اور انتخاب روکنے سے متعلق حافظ نعیم الرحمان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

عدالت نے جماعت اسلامی کے وکیل سے مکالمے میں کہا کہ آپ اتفاق کرتے ہیں کہ سماعت جاری رکھی جائے اور بعد میں درخواست منظور ہو جائے تو میئر کا انتخاب ریورس ہوسکتا ہے؟ جسٹس یوسف عل سعید نے ریمارکس د ئیےکہ عبوری حکم یا حکم امتناع کیوں ضروری ہے؟

جماعت اسلامی کے وکیل تیمور مرزا ایڈوکیٹ نے موقف دیا کہ یہ ترمیم آئین کے آرٹیکل 140-A کی بنیادی روح کے منافی ہے۔ الیکشن شیڈول اور تمام مراحل کے بعد قانون سازی ہی بد نیتی پر مبنی ہے۔ میئر کے انتخاب سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن ہی غیر قانونی ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کے خیال سے الیکشن کمیشن اتنا بااختیار نہیں کہ خود فیصلہ کرے اور نوٹیفیکیشن جاری کرسکے؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف دیا کہ ترمیم کی نیت اور قانون کی بنیادی روح کا جائزہ لینا ضروری ہے۔

جسٹس محمد عبد الرحمان نے ریمارکس دیے کہ آپ الیکشن کمیشن کے استحقاق کی بات کریں پہلے، الیکشن کمیشن خود مختار اور بااختیار ادارہ ہے؟ اگر معاملات زیر التوا رہیں گے تو الیکشن کیوں روکا جائے؟

جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف دیا کہ میری استدعا تو یہی ہے کہ اس درخواست کے فیصلہ تک میئر کا الیکشن روکا جائے۔

جسٹس یوسف علی سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں میئر کا الیکشن یا حتمی اعلان یا حلف سے روک دیا جائے؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف دیا کہ معاملہ بہت اہم ہے، قانون سازی سے متعلق فیصلے تک یہ عمل مکمل نہیں ہونا چاہیے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر ہم الیکشن روک دیں تو آگے کون معاملات چلائے گا؟ کیا ناظر دیکھے گا کون دیکھے گا؟ مقامی حکومت کون چلائے گا؟ جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف دیا کہ اب بھی ایڈمنسٹریٹرز ہی معاملات دیکھ رہے ہیں۔

ایڈوکیٹ جنرل سندھ حسن اکبر نے موقف اپناتے ہوئے کہا کہ ٹائمنگ بہت اہم ہے، قانون 20 مئی کو پاس ہوا اور درخواست 7 جون کو دائر کی گئی۔ اس کیس کی سماعت چھٹیوں کے بعد آگست میں رکھ دیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اسمبلی میں جماعت اسلامی نے اس ترمیم کو سپورٹ کیا ہے۔ یہاں جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے درخواست دی ہے، خود جماعت اسلامی نے قانون کی حمایت کی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ بات تحریری طور پر بھی دیں، مکمل تحریری جواب جمع کرائیں۔ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے موقف دیا کہ اگر الیکشن روکا گیا، تو شہریوں کا نقصان ہوگا، مقامی حکومت عام آدمی کی ضرورت ہے۔

عدالت نے ریمارکس د ئیے کہ سماعت سے میئر الیکشن کا شیڈول متاثر نہیں ہوگا۔ عدالت نے الیکشن نوٹیفیکیشن کی معطلی کی درخواست مسترد کر دی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker