
خانیوال(بیورو چیف)سماجی وسیاسی شخصیات پیر میاں سہیل الزمان شاہ کھگہ،چوہدری گلشن عباس گجر پیر میاں حیات شاہ کھگہ، احسان اللہ کھوکھر،پیر منصور شاہ کھگہ،حافظ ساجد اقبال خادمی نے کہا ہے کہ خانیوال کے علاقے میاں چنوں سے حمزہ یوسف کا اسکاٹ لینڈ کا وزیر اعظم بننا ایک مسرت کا امر ہے جو خانیوال ہی نہیں جنوبی پنجاب اور پاکستان کے نوجوانوں کی اعلی بصیرت کا عکاس ہے۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ حمزہ یوسف کے والد مظفر یوسف 1960میں پاکستان سے سکاٹ لینڈ منتقل ہوئے اور وہاں سیاست میں دلچسپی لے کر وہ وزیر صحت سکاٹ لینڈ کے منصب پر پہنچ چکے تھے اور پھر وہ سکاٹ لینڈ کی دھرتی پر پہلے مسلمان وزیر اعظم مقرر ہوئے اس خوشی پر اس کے والدین اشکبار ہوگئے ۔انہوں نے کہا کہ حمزہ یوسف کی سیاسی جدوجہد تاریخ میں ایک عظیم مثال ثابت ہو گی جو اندرونی الیکشن پارٹی کے دوسرے راونڈ میں 52 فیصد ووٹ لے کر ایس این بی کے سربراہ منتخب ہوئے یہ نشست فرسٹ منسٹر نکولہ سٹرجن کے مستعفی ہونے سے خالی ہوئے 37 سالہ حمزہ یوسف 2011 میں 26 سال کی عمر میں سکاٹش پارلیمینٹ کے ممبر منتخب ہوئے گلاسگو سے منتخب ہوکر وہ وزیر انصاف اور وزیر ٹرانسپورٹ رہے۔لیبر پارٹی کے سربراہ سر کییر سٹارمر اور سکاٹش لیبر پارٹی کے سربراہ انس سرور نے بھی ان کی جدوجہد سے ایس این بی کے سربراہ بننے پر اظہار مسرت کرتے ہوئے مبارکباد دی ہے۔جس سے ان کی یورپ میں شہرت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان رہنماوں نے مشترکہ بیان میں کہا کہ حمزہ یوسف میاں چنوں کے عظیم سپوت ہیں جن کے سکاٹ لینڈ میں وزیر اعظم بننے پر یہاں کے لوگ عظمت محسوس کر رہے ہیں.





