
وفاقی وزیر توانائی انجینئر خرم دستگیر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کیسوموٹو نوٹسز کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں، اس کا پاکستان کو نقصان ہی ہوا، انتخابات تاخیر کیس میں ہمارا مطالبہ فل کورٹ کا تھا، اس میں کیا امر مانع ہے کہ معاملہ میں شفافیت آئے۔
اسپیکر راجا پرویز اشرف کی زیر صدارت ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے خرم دستگیر نے کہا کہ اس ملک میں عدلیہ آزاد ہے لیکن عدل ابھی قید ہے، نیب اور اینٹی کرپشن کے محکموں کو گذشتہ دور میں سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا گیا، انتخابات کے لیے مردم شماری ضروری ہے، ہمیں نظریہ ضرورت کی نہیں بلکہ نظریہ جمہوریت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پارلیمان نے آج سے 50 سال پہلے 10 اپریل 1973 کو اس ملک و قوم کو متفقہ آئین دیا جس کے ابتدائیہ میں لکھا گیا کہ ریاست اپنے اختیارات منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرے گی، ریاست کا اقتدار اعلی عوام کے منتخب نمائندوں کو سونپا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بننے کے بعد پاکستان پر پہلا ڈاکہ ڈالا گیا جو 24 سال جاری رہا، عوام کے حق حاکمیت میں رکاوٹ ڈالی گئی تو اس کے نتیجہ میں ملک ٹوٹا، ہم نظریہ ضرورت، فوجی آمریت سے برسر پیکار رہے جن کا آپس میں گٹھ جوڑ رہا، جن کا مقصد عوام کا حق حاکمیت چھیننا تھا۔





