
کوئٹہ(آئی پی ایس)سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ فوج کا آج بھی ملک میں عمل دخل ہے ، آئین میں اس کا دائرہ کار موجود ہے اسے اس کے دائرہ کار تک محدود کر دیا جائے۔
کوئٹہ میں مفتاح اسماعیل ، لشکری رئیسانی اور مصطفی نواز کھوکھرکے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ فوج کے اب بھی معاملات میں عمل دخل ہے ، اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا حل بھی آئین میں موجود ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس مسائل کا کوئی معجزاتی حل نہیں ہے ، ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے،
بلوچستان کے مسائل کا حل نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ اس کے غیر نمائندے لوگوں کا پارلیمنٹ میں ہونا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم لسٹیں بنائیں کہ انہیں جتوائیں اور انہیں ہرا دیں ، یہی حال تمام ملک کا ہے اور یہی فساد کی بنیادی وجہ ہے، بلوچستان کے مسنگ پرسنز کا حل آئین میں ہے۔شاہد خاقان نے کہاکہ ملک کے معاشی سیاسی مسائل کا حل آئین میں ہے ، 73 کے آئین کو اس سال 50 سال مکمل ہو جائیں گے ،
میں چاہتا ہوں کہ بلوچستان کی گیس اور بجلی اسے دے دی جائی تمام صوبے اپنے ان معاملات کے خود ذمہ دار ہوں ۔ پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے وقت پر فیصلے نہ کرنے سے معیشت کو نقصان پہنچا،حکومت نے 4 ماہ تاخیر سے آئی ایم ایف سے بات کی۔مفتاح اسماعیل نے کہاہے کہ پچھلے 20 سال میں پاکستان کا قرض بڑھتا جا رہا ہے، وقت آگیا ہے پاکستان کے لوگوں کو حقوق دیئے جائیں،وقت آ گیا ہے لوگوں کو روزگار دیا جائے ، حکومت تعلیم اور صحت کی بجائے قرض کی ادائیگیاں کرے،عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔
سابق وزیر خزانہ کاکہناتھا کہ حکومت کی جانب سے فیصلے نہ کرنے سے معیشت کو نقصان پہنچا،حکومت نے 4 ماہ تاخیر سے آئی ایم ایف سے بات کی،رواں سال پاکستان کو 21 ارب ڈالر واپس کرنا ہیں ، ہمیں قرض واپس کرنے کیلئے مزید قرض لینا پڑتا ہے،پاکستان کا قرض بڑھ کر 51 ہزار ارب تک پہنچ گیاہے،ہمیں اپنی برآمدات اور زراعت کو آگے لانا ہوگا۔لیگی رہنما نے کہاکہ ہمارے پاس لوگوں کے مزید پیٹ کاٹنے کی گنجائش نہیں ،جب عوام کو مضبوط کریں گے تو ملک بھی ترقی کرے گا، مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے،ان کاکہناتھا کہ گردشی قرضہ 2800 ارب سے تجاوز کر چکا ہے،وقت آگیا ہے کہ حکومت وقت کوئی فیصلہ کرے،پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھا کہ لوگ مفلسی میں رہ رہے ہوں۔





