
اسلام آباد(آئی پی ایس )خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان کے علاقے دوبیرکی سماجی شخصیت عبدالرب نے حکومت سیدوبیر میں چار دوستوں کے سیلابی ریلے کی نذر ہو نے کے واقعہ کو ضلعی اور صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس کی جوڈیشل کمیشن بنا کر انکوائری کرانیاورغفلت اور لاپرواہی برتنے والے تمام قصورداروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کرتے ہوئے علاقے میں پھنسے ہوئے لوگوں کی فوری مدد کرنے اور انہیں خوراک اور ادویات کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے، نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں علاقے کے دیگر عمائدین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے عبدالرب کا کہنا تھا کہ کوہستان کے علاقے دوبیر میں ہونے والا دلخراش واقعہ ضلعی اور صوبائی حکومت کی مجرمانہ غفلت کا نتیجہ ہے، پانچ دوست اپنی گاڑیوںپر کسی کام سے جا رہے تھے کہ لڑک کے مقام پر رابطہ سڑک ٹوٹی ہونے اور بھاری پتھر ہونے کی وجہ سے انکی گاڑی وہاں پھنس گئی یہ تمام دوست گاڑی نکالنے میں مصروف تھے کہ اچانک پیچھے سے سیلابی ریلا آ گیا جس دیکھ کر یہ تمام دوست قریب ہی ایک بڑی چٹان پر پناہ لینے جمع ہو گئیاور چار گھنٹے کیلئے امداد کیلئے پکارتے رہے مگر ضلعی اور صوبائی حکومت ٹال متول سے کام لیتی رہی جس کے نتیجے میں چار افراد جن میں فضل محمود ولد اکبر خان، محمد بلال ولد عبدالرشید، محمد ریاض ولد سمندر خان اور محمد انور ولد حمید خان سیلابی ریلے میں بہہ گئے جن میں سے دو کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جبکہ دو ابھی تک لا پتہ ہیں، انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ کی جوڈیشل کمیشن بنا کر انکوائری کرائی جائے اور واقعہ کے قصورواروں کا تعین کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور علاقے میں شدید غذائی اور ادویات کی قلت کو دور کرنے کیلئے فوری طور پر اشیائے خوردونوش اور ادویات پہنچائی جائیں۔وزیر اعظم اور وزیر اعلی متاثرہ خاندانوں کیلئے امداد کا اعلان بھی کریں۔





