اہم خبریںپاکستانتازہ ترین

پی اے سی کوشہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی سے روک دیاگیا

اسلام آباد(آئی پی ایس)اسلام آباد ہائی کورٹ نے پی اے سی کوشہزاد سلیم کے خلاف تادیبی کارروائی سے روکتے ہوئے ریمارکس دیے کہ پی اے سی کی کارروائی پراسٹے آرڈر نہیں دے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں طیبہ گل الزامات سے متعلق ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی پبلک اکانٹس کمیٹی میں طلبی کے خلاف درخواست پرقائم مقام چیف جسٹس عامرفاروق نے ریمارکس دیے کہ آپ وارنٹس وغیرہ جاری کردیتے ہیں ایسے اقدامات سے روک رہے ہیں۔

 

سماعت میں ڈی جی نیب شہزاد سلیم کی جانب سے وکیل صفدرشاہین پیرزادہ اورطیبہ گل کی جانب سے وکیل حنا نعمان عدالت میں پیش ہوئیں۔وکیل صفدرشاہین پیرزادہ نے طیبہ گل کے کیس میں فریق بننے کی درخواست پراعتراض لگاتے ہوئے مقف پیش کیا کہ کل تیسرا لیٹر بھی پبلک اکانٹس سے موصول ہوا ہے۔قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی کیا قانونی حیثیت ہے؟ کیا پارلیمانی کمیٹی کے خلاف کوئی درخواست دائرکی جاسکتی ہے؟نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کارروائی چیلنج ہوسکتی ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی کارروائی کا عدالت جائزہ لے سکتی ہے۔

 

پراسیکیوٹر نیب نے کہا کہ قانون بنانا پارلیمنٹ کا کام ہے، قانون کی تشریح کرناعدالت کا اختیار ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کی کارروائی کو مکمل استثنی حاصل نہیں ہے۔ آئین اور قانون کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی معطل کی جاسکتی ہے۔جہانزیب بھروانہ نے دلائل دیے کہ رولزآف بزنس میں قائمہ کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات وضع کیے گئے، ہروزارت کی قائمہ کمیٹی قائم ہے جو وزارت کے معاملات دیکھتی یے۔ پبلک اکانٹس کمیٹی کے فنکشنز بھی رولز آف بزنس میں درج ہیں۔نیب کے پراسیکیوٹرنے کہا کہ پی اے سی حکومتی فنڈز اور آڈٹ رپورٹس کا جائزہ لیتی ہے، پی اے سی حکومتی فنڈزاورآڈٹ میں خرد برد کا بھی جائزہ لیتی ہے۔ پی اے سی نے اب دیگر معاملات کی تحقیقات اور انکوائریز بھی شروع کردی ہیں۔جہانزیب بھروانہ نے کہا کہ چیئرمین پی اے سی نے طیبہ گل کی درخواست پر سابق چیئرمین نیب اور دیگرافسران کو طلبی کے نوٹسز جاری کیے۔

 

پی اے سی نے چیئرمین نیب کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کا کہا۔ چیئرمین پی اے سی نے ڈی جی ایف ائی اے کو طیبہ گل کے الزامات کی تحقیقات کا حکم دیا۔نیب کے پراسیکیوٹر نے مذید دلائل میں کہا کہ پی اے سی نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا۔ طیبہ گل کے الزامات کے کیسزعدالتوں میں زیرالتوا ہیں۔ پی اے سی نے کل پھر طلبی کا نوٹس بھیجا ہے۔جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے اس کیس میں اہم آبزرویشنز دی ہیں، سپریم کورٹ قراردے چکی کہ بدنیتی پرمبنی اقدامات میں عدالت مداخلت کرسکتی ہے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل ارشد محمود کیانی نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی کارروائی عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ فیصلے کا اطلاق اس کیس میں نہیں ہوتا۔ پبلک اکانٹس کمیٹی کی کارروائی کوعدالتی نظرثانی سے استثنیٰ حاصل ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ کو نوٹس جاری ہوسکتے ہیں تو چیئرمین پی اے سی کو کیوں نہیں۔نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے استدعا کی کہ عدالت پی اے سی میں طلبی کے نوٹسز معطل قراردے جس پرعدالت نے پی اے سی میں طلبی کے نوٹسزمعطل کرنے کی درخواست مسترد کردی اورپبلک اکانٹس کمیٹی اور فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے سماعت27 جولائی تک ملتوی کردی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker