اسلام آبادعلاقائی

شہباز بھٹی کی روشن کردہ شمع نہیں بجھے گی ، فرحت اللہ بابر

گزشتہ روز مینارٹییز الائنس پاکستان کے زیر اہتمام سابق وفاقی وزیر شہباز بھٹی کی گیارویں برسی کے موقع پر اقلیتی اتحاد اور یکجہتی کانفرنس اسلام آباد کے نجی ہوٹل میں منعقد کی گئی کانفرنس سے خطاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما و سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ان کی موت کا ماتم کرتے ہیں بے نظیر بھٹو نے میرا تعارف شہباز بھٹی سے بڑی گرم جوشی سے کرایا تھا آخری دم تک رہا ۔

شہباز بھٹی پل بنانے والا شخص تھا دیواریں بنانے والا شخص نہیں تھا شہباز بھٹی ان لوگوں میں سے ہے جو قومی ورثہ ہوتے ہیں مسلمان علماء نے بھی شہباز بھٹی کو مساجد میں آنے کی دعوت دی توہین مذہب کے قانون پر اور اس کے غلط استعمال کے متعلق آواز کو بلند کیا شہباز بھٹی جانتا تھا کہ راستہ خطرناک ہے مگر اس نے پرواہ نہیں کی اس نے کئی بار اس خدشے کا اظہار کیا تھا شہباز بھٹی نے جو شمعیں روشن کی ہیں ہم نے ان کو روشن رکھنا ہے۔ اتحاد اور یکجہتی کے بغیر نہیں چلا جاسکتااتحاد کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے پاکستان اسی بنیاد پر بنا تھا اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے گا ۔ قائد اعظم سوچ سمجھ کر بات کرتے تھے۔ قائد اعظم کی پہلی کابینہ ہی ہمارے رہنما اصول ہیں اس کابینہ میں اقلیتی لوگ تھے

سردار رام سنگھ رہنما سکھ کمیونٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا اکمل بھٹی شہباز بھٹی کا کامشن لیکر چل رہے ہیں اکمل بھٹی میں شہباز بھٹی کا چہرہ نظر آتا ہے اگر حقوق مانگنا جرم ہے تو یہ ہم ہر وقت کرتے رہیں گے

سبط الاحسن بخاری انچارج سینٹرل سیکرٹریٹ اسلام آباد نے خطاب کرتے ہوا کہا شہباز بھٹی ایک تحریک کا نام ہے جب تک یہ ملک ہے ان کو سنہرے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا۔ رومانہ بشیر ایگزیکٹو ڈائریکٹر انٹر فیتھ ہارمونی نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہم سب کی شکلوں میں شہباز بھٹی زندہ ہے۔

مینارٹیز الائنس پاکستان کے مرکزی چئیرمین اکمل بھٹی نے خطاب کرت ہوئے کہا کہ جن قوتوں نے شہباز بھٹی کو قتل  کرکے یہ سوچا کہ ان کی ترقی کو روک دیں گے اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے آواز ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے آج وہ شدت پسند قوتیں دیکھ لیں کہ ہم اسی شہباز بھٹی کے ویژن کو لیکر چل پڑے ہیں آئین کے تحت ہم سب شہری برابر کے شہری ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker