
وزیر اعظم عمران خان کی ماسکو میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن کے ساتھ ون آن ون اہم ملاقات ہوئی جس میں دو طرفہ تعلقات اور گیس پائپ لائن منصوبے سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،بین الاقوامی اور روس کی سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کی تین گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی ملاقات میں دو طرفہ امور، خطے کی صورتحال اور خصوصاً افغانستان میں رونما ہونے والی سیاسی صورتحال پر غور کیا گیا۔ بعد ازاں روسی صدر کی جانب سے وزیر اعظم کے اعزاز میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا،روسی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کی خطے اور جنوبی ایشیاء کی صورتحال پر بھی بات چیت ہوئی، روسی صدر اور وزیراعظم عمران خان نے باہمی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا،بعد ازاں وزیراعظم عمران خان کی روس کے نائب وزیراعظم برائے توانائی الیگزینڈرنوویک سے ملاقات ہوئی،جس میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت معاشی اور دفاعی شعبہ میں تعاون پر اتفاق کیا گیا ، وزیراعظم آفس اور روس کے صدارتی محل سے ملاقات کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کریملن میں صدر ولادیمیر وی پیوٹن سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور پر وسیع مشاورت کی گئی،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کا مثبت رخ مستقبل میں بھی آگے بڑھتا رہے گا، اعتماد اور ہم آہنگی سے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید گہرا اور وسیع کیا جائے گا، وزیراعظم نے فلیگ شپ اقتصادی منصوبے کے طور پر پاکستان اسٹریم گیس پائپ لائن کی اہمیت کا اعادہ کیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے توانائی سے متعلق ممکنہ منصوبوں میں تعاون پر بھی بات چیت کی،اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے روس کے ساتھ طویل المدتی، کثیر جہتی تعلقات استوار کرنے کے پاکستان کے عزم کو دہرایا جبکہ افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے اور ممکنہ اقتصادی بحران کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اْنھوں نے کہا کہ پاکستان ایک مستحکم، پرامن اور منسلک افغانستان کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا،وزیراعظم عمران خان نے روسی صدر کو مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیااور جموں و کشمیر کے تنازعہ کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ،قبل ازیں وزیراعظم نے دوسری جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی یادگار پر بھی حاضری دی۔ یادگار کریمیلین کے الیگزینڈر گارڈن میں تعمیر کی گئی۔ وزیراعظم نے یادگار پر پھول بھی رکھے،پاکستان کو امید ہے سفارت کاری سے فوجی تنازع کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ تنازعات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے، اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے علاقائی توازن کو برقرار رکھنے میں معاون اقدامات پر بھی زور دیتے ہوئے روس اور یوکرین کے درمیان تازہ ترین صورتحال پر افسوس کا اظہار کیا۔





