
ادارہ برائے سماجی انصاف (سی ایس جے) کے زیر اہتمام ایک سیمینار منعقد کیا گیا. جس میں سال 2021ء میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات پر مشتمل، ہیومن رائٹس آبزرو رپورٹ پیش کی گئی. مذکورہ فیکٹ شیٹ، مذہبی اقلیتوں پر اثر انداز ہونے والے کلیدی مسائل جیسا کہ، توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال، جبری تبدیلی مذہب، مردم شماری میں نمائندگی، اور متعصب تعلیمی نظام، کا احاطہ کرتی اور اس حوالے سے اعدادوشمار پیش کرتی ہے۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے نصاب اور نصابی کتابوں میں متعارف کرائے گئے مذہبی مواد کے پیمانے، توہین رسالت کے قانون کے غلط استعمال، جبری تبدیلی مذہب اور پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کی گھٹتی ہوئی آبادی پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا. مقررین نے کہا کہ ایسے اقدامات اور واقعات کے نتیجے میں مذہبی اقلیتوں کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور مذہبی تقسیم گہری ہو رہی ہے۔
. ادارہ برائے سماجی انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے کہا کہ اقلیتوں سے متعلقہ کئی اور مسائل بھی ہیں جو کہ باعث تشویش ہیں، جیسے کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے (جسٹس جیلانی فیصلہ 2014ء) پر عمل درآمد میں مایوس کن پیش رفت، جو کہ وفاق کی طرف سے کی گئی تشخیص (جسٹس ایٹ افار) میں درج ہے، ملازمت کے کوٹہ اور تعلیمی کوٹہ کا نفاذ، اور اقلیتوں کے لیے ایک غیر موثر قومی کمیشن کا قیام شامل ہیں. مگر ادارہ برائے سماجی انصاف نے بالخصوص دو اہم مسائل پر گزشتہ سال پرائمری اور سیکنڈری ڈیٹا کو جمع کرکے مذکورہ حقائق نامہ ترتیب دی ہے اور وہ دو مسائل، توہینِ-مذہب کے قوانین کے غلط استعمال اور جبری تبدیلی مذہب کے حوالے سے ہیں۔
شرکاء سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے معروف صحافی اور ڈائریکٹر سی ای کے محترمہ امبر رحیم شمسی نے کہا کہ "فیکٹ شیٹ مقداری اور معیاری طور پر جاری مسائل اور نئی پیشرفتوں کی دستاویز کرنے میں ایک اہم سنگ میل ہے. جو ان مسائل کو حقیقی معنوں میں اجاگر کرتی ہے کہ جو اقلیتوں کے اپنے مذہب پر آزادی سے عمل کرنے اور خوف اور امتیاز سے پاک زندگی گزارنے کے حق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اگر حکومت اقلیتوں کے تحفظ اور انہیں پاکستان کے شہریوں کے مساوی درجہ دینے میں سنجیدہ ہے تو اسے رپورٹ میں دی گئی سفارشات پر فوری عمل کرنا چاہیے۔
معروف قانون دان اور انسانی حقوق کے علمبردار جناب اسلم خاکی نے سول سوسائٹی، سیاسی رہنماؤں، مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں پر زور دیا کہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کے حوالے سے صرف رسمی مذمت سے آگے بڑھا جائے، اور نفرت انگیز جرائم میں ملوث اور لوگوں کو اکسانے والے عناصر کے خلاف کارروائی کرنے کے حوالے ایک موثر آواز بلند کی جائے۔
سماجی ادارہ "ادراک” کے سربراہ اور معروف محقق جناب امجد نذیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی آبادی پر توہین مذہب کے الزامات اور جبری تبدیلی مذہب کے حوالے سے رجحانات کی نشاندہی کرنے والے اس رپورٹ کے اعدادوشمار قانون سازی، اور پالیسی سازی کرنے، انتظامی طریقہ کار کے اپناؤ کے حوالے سے انتہائی اہم ہیں۔





