بین الاقوامی

چین کا امریکہ کی جانب سے چینی کمپنیوں کو ویغور جبری مشقت کی فہرست میں شامل کرنے پر ردعمل

امریکی مشرقی وقت کے مطابق 28 اکتوبر کو امریکی محکمۂ ہوم لینڈ سکیورٹی نے تین چینی کمپنیوں کو نام نہاد "ویغور جبری مشقت کی روک تھام کے قانون” کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ اس اقدام پر چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے کہا کہ چین میں جبری مشقت کا کوئی وجود نہیں۔چین کے سنکیانگ ویغور خود اختیار علاقے میں تمام قومیتوں کے عوام کو کام اور روزگار کے انتخاب کی آزادی اور برابری حاصل ہے اور ان کے محنت سے متعلق حقوق قانون کے مطابق مؤثر طور پر محفوظ ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی اقدامات کی کوئی حقیقی بنیاد نہیں ہے۔ امریکہ مسلسل نام نہاد انسانی حقوق” کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتا رہا ہے اور انسانی حقوق کے نام پر یکطرفہ تحفظ پسندی اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کرتا ہے۔ چین اس اقدام کی شدید مذمت اور سخت مخالفت کرتا ہے۔
ترجمان کے مطابق، امریکی فریق کی جانب سے چینی کمپنیوں کو فہرست میں شامل کرنے کا اقدام دونوں ممالک کے سربراہانِ مملکت کے درمیان طے پانے والے اہم اتفاقِ رائے سے انحراف ہے۔ اس سے چین اور امریکہ کے اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے استحکام کو شدید نقصان پہنچتا ہے اور یہ انسانی ہمدردی کے اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کے ترجمان نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر سیاسی ہیرا پھیری اور چین کو بدنام کرنے کی کوششیں بند کرے اور چینی کاروباری اداروں پر بلاجواز دباؤ ڈالنے سے باز آئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ چین اپنے کاروباری اداروں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker