بین الاقوامی

چینی کمیونسٹوں کا روحانی ورثہ ایک صدی کی آزمائی ہوئی روحانی قوت ہے، چینی میڈیا

بیجنگ :2021 میں کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے قیام کی ایک سوویں سالگرہ کے موقع پر، چین کے اعلیٰ ترین رہنما شی جن پھنگ نے منظم طریقے سے "چینی کمیونسٹوں کے روحانی ورثے کا تصور پیش کیا۔اس روحانی ورثے میں شامل مختلف نظریات اور اقدار کے سرچشمے میں پارٹی کے قیام کا عظیم جذبہ کارفرما ہے، جس کا بنیادی مقصد "چینی عوام کے لیے خوش حالی اور چینی قوم کی عظیم نشاۃِ ثانیہ کا حصول” ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد ملک کی تعمیر و ترقی کے دور میں ، چینی محققین نے جوہری بم کے اعداد و شمار کا حساب کتاب صحرائے گوبی پر ایباکس کے ذریعے کیا، جس نے "دو بم، ایک سیٹلائٹ” کے جذبے کو جنم دیا۔ کاؤنٹی پارٹی کے سیکرٹری جیاؤ یولو نے شدید بیماری کے باوجود صحرازدگی پر قابو پانے اور لوگوں کے معاش کو بہتر بنانے کے لیے درخت لگانے میں مقامی لوگوں کی قیادت کی، جس نے "جیاؤ یولو جذبے” کو جنم دیا۔ 1978 میں اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے آغاز کے بعد ، خصوصی اقتصادی زونز کا جذبہ، سیلاب پر قابو پانے کا جذبہ، زلزلہ زدہ علاقوں میں ریسکیو اور امداد کا جذبہ، اور انسان بردار خلائی پرواز کے جذبے یکے بعد دیگرے سامنے آئے ہیں۔ جبکہ 2012 میں چین کے ایک نئے دور میں داخل ہونے کے بعد سے، "کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا” پر مبنی غربت کے خاتمے کے جذبے، حب الوطنی کے حامل سائنسدانوں کے جذبے اورمشترکہ مفادات پر مبنی شاہراہ ریشم کے جذبے نے اس روحانی ورثے کے مفہوم کو مزید تقویت بخشی ہے۔ ہر ایک جذبہ مخصوص چیلنجوں کا سامنا کرنے والی نسل کے انتخاب اور جواب کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ تمام جذبے مل کر ایک مکمل نظامِ اقدار تشکیل دیتے ہیں، جسے "چینی کمیونسٹوں کا روحانی ورثہ” کہا جاتا ہے۔ اس روحانی ورثے میں تمام جذبوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ ہمیشہ ایک سرخ لکیر سے جڑے نظر آتے ہیں : "عوام سب سے پہلے”۔ یہ کتابوں میں بیان کیا جانے والا کوئی تجریدی تصور نہیں بلکہ ایک روحانی طاقت ہے جسےکمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے گزشتہ صدی میں مشکلات اور رکاوٹوں پر قابو پانے کے عمل میں تشکیل دیا ہے اور یہی سی پی سی کی جانب سے پارٹی کی حکمرانی، ملک کے انتظامات نیز "بہتر زندگی” کی جانب عوام کی قیادت کرنے کا محرک بھی ہے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker