بین الاقوامیٹاپ سٹوری

ایران کا ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ رسائی دینے کا اعلان

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اعلان کیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کے ایٹمی معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران میں آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی بی ایس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ اگر معائنہ کار ایران آ کر معائنہ کرنا چاہتے ہیں تو اس مخصوص معاملے پر مذاکرات کے دوران باہمی اتفاق اور معاہدے تک پہنچا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اگر کوئی وعدہ کرے گا تو اسے نبھائے گا، امریکا کے ساتھ جوہری پروگرام پر پابندیوں کے حوالے سے مذاکرات کیلئے تیار ہیں، جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتا ، فیصلہ امریکا کو کرنا ہے کہ وہ جنگ ختم کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ اگر اختلافات مذاکرات کے ذریعے حل ہو سکتے ہیں تو ایک دوسرے کو قتل کرنے کی ضرورت نہیں، تاہم نیا معاہدہ بین الاقوامی قانونی دائرہ کار میں ہونا چاہیے۔
ایرانی جوہری تنصیبات پر حملوں کے بعد ایران نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ساتھ تعاون محدود کر دیا تھا، ایران کا مؤقف رہا ہے کہ جنگ سے متاثرہ تنصیبات کی سکیورٹی صورتحال کے باعث وہاں فوری معائنے ممکن نہیں، اور اس کے لیے خصوصی طریقہ کار طے کیا جانا چاہیے۔
جون 2026 میں امریکا اور ایران کے عبوری معاہدے کے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے کہا تھا کہ معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کے جوہری معائنہ کاروں کو ایران تک رسائی ملنی چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی برائے اندرونی امور کے چیئرمین محمد صالح جوکار نے یورینیم کی 60 فیصد حد تک افزودگی جاری رکھنے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ مختلف سطحوں پر یورینیم کی افزودگی ایرانی عوام کا قانونی اور بنیادی حق ہے۔
الجزیرہ کے مطابق محمد صالح کا کہنا تھا کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتے لیکن صنعت، ادویات، زراعت اور ایندھن کے لیے ایٹمی سائنس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔

محمد صالح جوکار نے واضح الفاظ میں کہا کہ یہ دعویٰ کہ ہمیں 60 فیصد افزودگی کی ضرورت نہیں، دراصل وہی بات ہے جو ہمارے دشمن چاہتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے اس حق کا دفاع کرنا ہو گا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker