بین الاقوامیٹاپ سٹوری

نیپال میں سیلاب سے 469 افراد ہلاک، 500 سیاحوں سمیت 900 تاحال لا پتہ

کھٹمنڈو: نیپال اور تبت کی سرحد پر آنے والے سیالاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں اب تک نیپال میں 469 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔
نیپالی پولیس کا کہنا ہے کہ سیلاب اور تودے گرنے سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 469 ہو گئی ہے۔
نیپالی وزیرِاعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دریائے تریشولی کے نزدیک ایک سرنگ سے 350 افراد کو نکالا جا چکا ہے جبکہ فوج اندر پھنسے مزید 100 افراد کو کوششوں میں مصروف ہے۔
اس سے قبل نیپالی حکام نے بتایا تھا کہ 900 افراد تاحال لاپتہ ہیں جن میں 500 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔
ادھر چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی زنہوا نے خبر دی ہے کہ حکام نے تبت میں پھنسے 555 سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا ہے۔
سیلاب کے بعد تبت سے معلومات بہت محدود مقدار میں سامنے آئی ہیں، جس کی بڑی وجہ چین کے سخت میڈیا ضوابط ہیں، یہ واضح نہیں کہ آیا یہ اعداد و شمار نیپال کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات سے مطابقت رکھتے ہیں یا ان سے الگ ہیں۔
شنہوا کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ نکالے گئے سیاحوں کی شہریت کیا تھی تاہم انڈیا، آسٹریلیا اور امریکا نے کہا ہے کہ ان کے شہری بھی اس آفت میں لاپتا افراد میں شامل ہیں۔
ریڈ کراس کے ایک عہدیدار نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارکن لاپتا افراد اور ممکنہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں مصروف ہیں، تاہم علاقے میں دوبارہ سیلاب آنے کی اطلاعات نے انہیں شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
چین اور نیپال کی سرحد کے قریب پانی کی ایک جھیل بن گئی ہے جس کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ پانی کناروں سے باہر نکل کر مزید تباہی پھیلا سکتا ہے، مقامی حکام کے مطابق ایک گلیشیئر کے منہدم ہونے سے آنے والی شدید سیلابی لہر نے مکانات اور سڑکیں بہا دیں جبکہ نیپال اور تبت کے درمیان اہم سرحدی گزرگاہ بھی تباہ ہو گئی۔
سیلاب سے نیپال کے بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، 80 پل اور تقریباً 40 کلومیٹر پختہ سڑکیں متاثر ہوئی ہیں، چین کی سرحد سے متصل یہ علاقہ نیپال اور اس کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار چین کے درمیان سامان کی نقل و حرکت کے لیے انتہائی اہم ہے، اس لیے سڑکوں اور پلوں کی تباہی سے ملک کو انفرااسٹرکچر کی تعمیر نو کے ساتھ ساتھ تجارتی سرگرمیوں میں خلل کا بھی سامنا ہوگا۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker