
نئی دہلی: (آئی پی ایس) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے ثالثی کردار پر کبھی اعتراض نہیں کیا، ایران سے معاہدے پر کام جاری ہے، برا معاہدہ نہیں کریں گے۔
بھارت کے دورے پر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، کیا بھارت نے اس پر کسی تشویش کا اظہار کیا؟
مارکو روبیو کا جواب تھا کہ بھارت ہمیشہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ پاکستان کی سر زمین سے مسلح دہشت گرد گروہ کام کر رہے ہیں جو بھارت کو نشانہ بناتے ہیں، وہ ہمیشہ اس پر فکر مند رہتے ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ کے مطابق جہاں تک ایران کے معاملے میں ثالث اور سہولت کار کے طور پر پاکستان کے کردار کی بات ہے، یہ موضوع کبھی سامنے نہیں آیا، مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس پر اعتراض کریں گے۔ پاکستان کے ساتھ ان کا مسئلہ مختلف ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے اور جوہری معاملات پر ایک حقیقی، اہم اور محدود مدت کے مذاکرات میں شامل ہونے کے حوالے سے ایک کافی مضبوط تجویز موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے ہم اسے کامیاب بنا لیں گے، خلیجی ممالک میں اس کی بھرپور حمایت موجود ہے، اور عالمی سطح پر بھی کافی حمایت حاصل ہے، ہر ملک جسے ہم نے اس منصوبے کے بارے میں بتایا، اس نے سمجھا کہ یہ نہ صرف بہت معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست قدم بھی ہے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی معاہدے تک پہنچنے میں جلد بازی نہیں کرنا چاہتے، صدر کوئی برا معاہدہ نہیں کریں گے، اس لیے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، ہم سفارت کاری کو کامیاب ہونے کا ہر ممکن موقع دیں گے، اس سے پہلے کہ ہم دوسرے متبادل راستوں پر غور کریں۔
امریکی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ اب بھی ممکن ہے، روبیو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل رہے گا۔





