بین الاقوامی

چین کا جاپان کے نئے عسکری رجحانات پر سخت ردعمل

بیجنگ :جاپانی حکومت اس ماہ باضابطہ طور پر "دفاعی ساز و سامان کی منتقلی کے تین اصول” میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے۔اس حوالے سے منعقدہ یومیہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کے جواب میں چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ متعدد بین الاقوامی ماہرین اور جاپان کے باشعور حلقے اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ اقدام جنگِ عظیم دوم کے بعد جاپان کی اسلحہ برآمدات کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے اور "قاہرہ اعلامیہ””پوٹس ڈیم بیان” اور جاپان کی ہتھیار ڈالنے کی دستاویز” جیسے بین الاقوامی قانونی دستاویزات کی خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام جاپان کے آئین اور موجودہ داخلی قوانین کی بھی شدید خلاف ورزی ہے، اور بعد از جنگ جاپانی عسکریت پسندی کو دوبارہ ابھرنے سے روکنے کے لیے قائم نظامی ضمانتوں کو کمزور کرتا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو شدید چوکس رہنا چاہیے اور جاپان کے نئے عسکری رجحان کی کسی بھی کوشش کی سختی سے مخالفت کرنی چاہیے۔انہوں نے جاپان پر زور دیا کہ وہ اپنی عسکریت پسندانہ ماضی پر سنجیدگی سے غور کرے، سیکیورٹی امور میں اپنے وعدوں کی پاسداری کرے اور محتاط رہتے ہوئے اس غلط راہ پر مزید آگے نہ بڑھے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker