بین الاقوامی

اخلاق سے فتح، منافقت سے دلوں کی شکست

بیجنگ :امریکی "پولیٹیکو” نیوز ویب سائٹ اور برطانوی رائے عامہ کے ادارے "پبلک فرسٹ” کی جانب سے 15 تاریخ کو جاری کیے گئے مشترکہ سروے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ دو میں سے ایک کے انتخاب کے تقابلی جائزے میں چین پہلی بار امریکہ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اکثریت کی نظر میں "زیادہ قابلِ اعتماد بین الاقوامی شراکت دار” بن کر سامنے آیا ہے۔

خاص طور پر قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ امریکہ کے روایتی قریبی اتحادی ممالک، یعنی کینیڈا، برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں بھی چین نے امریکہ پر سبقت حاصل کر لی ہے، جبکہ نوجوانوں کی آراء نسبتاً زیادہ مثبت ہیں۔ یہ محض اعداد و شمار میں معمولی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ عالمی سیاسی اعتماد کے ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی ہے۔یہ دراصل "خلوص” اور "نمائش” کے درمیان ایک مقابلہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ چین کیوں کامیاب ہوا؟ اس کا جواب نہایت سادہ ہے: چین واقعی اخلاقی اصولوں کو اپنا عقیدہ سمجھتا ہے۔آج کی دنیا پر نظر ڈالی جائے تو صرف چین ہی ایسا ملک ہے جس نے "دنیا سب کے لیے” جیسے اخلاقی تصور کو اپنی حکمرانی اور ریاستی نظم و نسق کی بنیاد بنا لی ہے، نہ کہ اسے سفارتی حکمتِ عملی کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے۔

یہی ثابت قدمی دراصل مغربی دنیا کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ ہر اخلاقی دعوے کو مفاداتی چال کا لبادہ سمجھا جائے، اس لیے وہ چین کے خلوص پر یقین نہیں کر پاتے اور اکثر یہ خیال کرتے ہیں کہ اس کے طرزِ عمل کے پیچھے کوئی بڑا خفیہ منصوبہ پوشیدہ ہے۔ ان کی نظر میں اخلاق، اصول اور قواعد سب سیاسی آلات ہیں، جو مفادات کے حصول کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جبکہ چین کا طرزِ عمل انہیں بے چینی میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے: "نیک انسان کشادہ دل ہوتا ہے، جبکہ تنگ نظر ہمیشہ بے چین رہتا ہے۔”مغربی سیاسی منطق میں جب قواعد ان کی بالادستی کو برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں تو انہیں مقدس اصول قرار دیا جاتا ہے، اور جب یہی قواعد ان کے مفادات میں رکاوٹ بنیں تو انہیں پامال کیا جاتا ہے ، بین الاقوامی تنظیموں یا معاہدوں سے دستبردار ہونے میں بھی دیر نہیں لگائی جاتی۔ اس کے برعکس چین کا معاملہ مختلف ہے۔ چین کی جانب سے اخلاقی اصولوں پر کاربندی اس کی تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک، "تمام اقوام کے ساتھ ہم آہنگی” اور "جو اپنے لیے پسند نہ ہو، وہ دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو” جیسے تصورات نے چین کی سیاسی حکمتِ عملی کو تشکیل دیا ہے۔ چین نے کبھی طاقت کے استعمال کو دیرپا حل نہیں سمجھا۔ چین کی قیادت کی جانب سے بڑے اور چھوٹے ممالک کے درمیان برابری کی بات محض سفارتی نمائش نہیں بلکہ ایک حقیقی یقین ہے۔ یہ اس سوچ پر مبنی ہے کہ بڑی طاقت کو چھوٹے ممالک پر ظلم نہیں کرنا چاہیے اور مضبوط ریاست کو کمزور کو محروم نہیں کرنا چاہیے۔ یہ نظریہ دراصل انصاف اور فطری اصولوں کے احترام سے جنم لیتا ہے۔ یہی خالص یقین مغربی دنیا کے لیے ناقابلِ فہم ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر عمل کے پیچھے کوئی نہ کوئی مفاد ہونا ضروری ہے، اور وہ اس بات پر یقین نہیں کر پاتے کہ چین واقعی "دنیا سب کے لیے” کے اصول پر عمل پیرا ہے۔”پانی کشتی کو لے جا سکتا ہے، اور وہی کشتی کو ڈبو بھی سکتا ہے”—یہ قدیم کہاوت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ چین کی سوچ دیگر بالادست قوتوں سے کیوں مختلف ہے۔ امریکہ جیسے ممالک کے لیے اہم تصور "فتح” ہے اور وہ "صرف میں ہی عظیم ہوں”کی لذت چاہتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ دنیا بھر میں فوجی اڈے قائم کر کے اور بحری بیڑے تعینات کر کے ہمیشہ کے لیے غلبہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وہ ایک سادہ حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جبر پر قائم نظام، گرفت ڈھیلی ہوتے ہی بکھر جاتا ہے، اور دوسروں کے نقصان پر قائم برتری زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکتی۔ لیکن چین نے "کشتی کو لے جانے اور ڈبونے” کے اصل مفہوم کو سمجھا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر چین نہ تو اثر و رسوخ کے حلقے قائم کرتا ہے، نہ سیاسی گھیراؤ کرتا ہے اور نہ ہی یکطرفہ "دائرہ اختیار” نافذ کرتا ہے۔ چین نے چار بڑے گلوبل انیشی ایٹوز پیش کیے ہیں،” بیلٹ اینڈ روڈ” تعاون کو وسعت دی ہے اور برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم جیسے بین الاقوامی تعاون کے پلیٹ فارمز کو فروغ دیا ہے۔ یہ اقدامات قلیل مدتی مفادات کے حصول کے لیے نہیں بلکہ اس یقین کے تحت کیے گئے ہیں کہ اگر دنیا مستحکم ہوگی تو چین بھی ترقی کرے گا، اور اگر چین ترقی کرے گا تو دنیا بھی فائدہ اٹھائے گی۔ اس کے برعکس اگر دنیا بدامنی اور زوال کا شکار ہوگی تو چین بھی اس سے الگ نہیں رہ سکتا۔اس سروے کی تاریخی اہمیت اس بات میں مضمر ہے کہ عالمی عوام نے بالآخر ظاہری پردوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو پہچان لیا ہے اور چین اور مغرب کی سفارتی سوچ کے بنیادی فرق کو سمجھ لیا ہے۔مغربی ممالک "زیرو سم گیم” کھیل رہے ہیں، ہر چیز کو نفع و نقصان کے پیمانے پر تولتے ہیں، جبکہ چین انسانی فلاح کے راستے پر گامزن ہے اور دلوں کی قدر کو مقدم رکھتا ہے۔ اس غیر یقینی اور ہنگامہ خیز دنیا میں عوام اس بات سے تنگ آ چکے ہیں کہ انہیں محض مہرے یا وسائل سمجھا جائے۔ اب وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ چین کی اخلاقیات محض الفاظ نہیں بلکہ عملی تعاون کی شکل میں سامنے آتی ہیں، اور "دنیا سب کے لیے” کا تصور کوئی نعرہ نہیں بلکہ ایک مستقل اصول اور ستون ہے۔یہ "اعتماد کی منتقلی” دراصل خلوص کی منافقت پر فتح ہے! یہ موڑ کسی مصنوعی تشہیر کا نتیجہ نہیں بلکہ سچائی کا روشنی کی جانب فطری رجحان ہے۔ آنے والی دنیا انہی اقوام کی ہوگی جو سچائی پر یقین رکھتی ہیں اور اخلاقی اصولوں پر عمل کرتی ہیں۔ یہی طرزِ عمل بالآخر تعصبات کو ختم کرے گا اور لوگوں کو چین اور اس کے نظریے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرے گا، جس کے نتیجے میں باہمی غلط فہمیاں اور دشمنی بتدریج ختم ہو جائیں گی۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker