
بیجنگ : چین کی خاتون اول پھنگ لی یوان، جو عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے تپِ دق اور ایڈز کے انسداد کی خیرسگالی سفیر بھی ہیں، نے 2026 کے عالمی یومِ انسدادِ تپِ دق کے موقع پر منعقدہ ویڈیو کانفرنس سے تحریری خطاب کیا۔جمعرات کے روزپھنگ لی یوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ چین کی حکومت ہمیشہ تپ دق کی روک تھام کے کام کو انتہائی اہمیت دیتی رہی ہے اور اس حوالے سے مسلسل پیش رفت کی جا رہی ہے۔
چین کا ایک ارب چالیس کروڑ شہری اور دیہی رہائشیوں پر محیط صحت کی خدمات کا نیٹ ورک تپِ دق کے مریضوں کی شرح میں مسلسل کمی کا باعث بنا ہے، اور چین تپ دق کے کم اور درمیانے درجے کے پھیلاؤ والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔ اس سال چین میں "لاکھوں رضاکاروں کی تپِ دق آگاہی مہم ” کا پندرہواں سال ہے۔ گزشتہ پندرہ سالوں میں، چین کے دس لاکھ سے زائد رضاکار تپ دق کی روک تھام کے کام میں شامل ہوئے اور مجموعی طور پر 80,000 سے زیادہ رضاکارانہ منصوبے انجام دئیے۔ پھنگ لی یوان نے تمام ممالک اور شعبوں کے افراد سے فعال کردار ادا کرنے، تپ دق کے انسداد کی کوششوں کی حمایت کرنے، اور باہمی تعاون کے ذریعے انسانی صحت کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کےلیے مل کر کام کرنے کی اپیل کی۔





