بین الاقوامی

چین کی اسٹیٹ کونسل کے امورِ تائیوان دفتر کی لائی چھنگ دہ کے بیانات پر شدید تنقید

بیجنگ : لائی چھنگ دہ نے نام نہاد "تائیوان کے علاقائی رہنما کے براہِ راست انتخابات کے 30 سال اور جمہوری مضبوطی پر سیمینار” میں شرکت کی اور کھلے عام کہا کہ مذکورہ انتخاب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ "تائیوان ایک خودمختار آزاد ملک ہے”۔

اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے چین کی اسٹیٹ کونسل کے امورِ تائیوان دفتر کے ترجمان چھن بن ہوا نے کہا کہ لائی چھنگ دہ کا بیانیہ ایک مرتبہ پھر ایک چین کے اصول کو کھلے عام چیلنج کرتا ہے اور اس سے اُس کی "تائیوان کی علیحدگی” کے مؤقف پر بضد رہنے کی حقیقت پوری طرح بے نقاب ہوتی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ لائی چھنگ دہ کی جانب سے دونوں کناروں کے درمیان محاذ آرائی کو ہوا دینا دراصل تائیوان کی تاریخ کو مسخ کرنے اور بنیادی حقائق سے انحراف کے مترادف ہے۔ اس کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا، غلط فہمیاں پیدا کرنا اور "چین کی مخالفت اور تائیوان کے دفاع” کے نعرے کو بھڑکانا ہے، جس کا حقیقی ہدف عسکریت کے ذریعے علیحدگی کی جستجو اور وحدت کی مخالفت کرنا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات دراصل آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو نقصان پہنچانے اور تائیوان کو تنازع اور جنگ کے خطرے کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔
چھن بن ہوا نے کہا کہ تائیوان کبھی بھی ایک ملک نہیں رہا اور نہ ہی مستقبل میں بن سکتا ہے، اس لیے نام نہاد "خودمختاری” کا دعویٰ سراسر بے بنیاد ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ چین کسی بھی فرد یا قوت کو جمہوریت کی آڑ میں "تائیوان کی علیحدگی” کی کوششوں کو آگے بڑھانے کی اجازت نہیں دے گا۔ ترجمان نے خبردار کیا کہ لائی چھنگ دہ جیسے عناصر جو بھی خطرناک راستہ اختیار کرنے کی کوشش کریں گے، بالآخر اپنی ہی تباہی کا سبب بنیں گے ۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker