بین الاقوامی

زندگی کا ضیاع، جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے

تہران ()
28 فروری کی صبح ، ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں واقع ایک پرائمری اسکول امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے دوران متاثر ہوا، جس کے نتیجے میں 165 افراد ہلاک اور 96 زخمی ہو ئے۔ یہ واقعہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے دوران شہری ہلاکتوں کے بدترین واقعات میں سے ایک بن گیا اور اس نے انسانی ضمیر اور تہذیبی حدود پر گہرے سوالات اٹھا دیے۔


واقعے کے بعد، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، یونیسکو، یونیسیف اور دیگر اداروں نے شہریوں اور شہری سہولیات پر حملوں کی مذمت کی۔ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اقوام متحدہ کی امن سفیر ملالہ یوسفزئی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "شہریوں، خصوصاً بچوں کا قتل ناقابلِ فہم ہے، میں اس کی سخت مذمت کرتی ہوں۔ ہر بچے کو امن سے جینے اور سیکھنے کا حق حاصل ہے۔”
تاحال حملے کی ذمہ داری اور تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایروانی نے اسے "جارحیت، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرم” قرار دیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے ڈینی ڈینن نے ایک پریس کانفرنس میں اصرار کیا کہ اسرائیل "صرف فوجی اہداف” کو نشانہ بناتا ہے اور شہری ہلاکتوں پر "افسوس” کا اظہار کرتا ہے۔
اس وقت دنیا بھر میں بڑھتے تنازعات کے تناظر میں بچوں کے حوالے سے خلاف ورزیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں دو تاریخ کومنعقدہ ” تنازعات میں بچے، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیم” کے موضوع پر اجلاس میں چین کے نمائندے فو چھونگ نے بچوں پر حملوں کی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ کے سیاسی امور کی انڈر سیکرٹری جنرل روزمیری ڈی کارلو نے بتایا کہ دنیا بھر میں ہر پانچ میں سے ایک بچہ یا تو تنازع زدہ علاقے میں رہ رہا ہے یا اس سے فرار پر مجبور ہے، جن کی مجموعی تعداد 473 ملین تک پہنچ چکی ہے۔ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اس اجلاس کی صدارت امریکہ کی خاتون اول نے کی تھی۔اسی باعث ایرانی نمائندے ایروانی نے امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سلامتی کونسل میں بچوں کے تحفظ پر اجلاس بلایا جاتا ہے اور دوسری طرف ایرانی شہروں پر میزائل داغے جاتے ہیں، اسکولوں پر بمباری کی جاتی ہے اور بچوں کو ہلاک کیا جاتا ہے، جو "انتہائی شرمناک اور منافقانہ” رویہ ہے۔
مذاکراتی عمل کے دوران کسی خودمختار ریاست پر بے باک حملہ کرنا، حتیٰ کہ قومی قیادت کو نشانہ بنانا اور نظام کی تبدیلی کی ترغیب دینا، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ تنازع کے دوران شہری جانوں کو نظرانداز کرنا اور بموں کو درسگاہوں پر گرنے دینا انسانی ضمیر کے لیے انتہائی چیلنج ہے۔
طاقت کا استعمال کبھی بھی تنازعات کا حقیقی حل نہیں رہا؛ یہ صرف مزید تباہیوں کو جنم دیتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد، مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں فوجی اڈے، سفارتی مشن اور ہوائی اڈے حملوں کی زد میں آئے، علاقائی سلامتی کی صورتحال تیزی سے بگڑی، آبنائے ہرمز میں آمد و رفت متاثر ہوئی اور عالمی توانائی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہوئے۔ پھر جرمنی اور فرانس نے جوہری شعبے میں تعاون بڑھانے کا اعلان کیا، جبکہ اسلحہ کنٹرول اور جوہری عدم پھیلاؤ کے نظام پر دباؤ میں اضافہ ہوا۔ اگر یہ سلسلہ بے قابو ہو گیا تو نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
کسی بھی مسلح تنازع میں شہریوں کے تحفظ کی سرخ لکیر ہرگز عبور نہیں ہونی چاہیے، اور اندھا دھند طاقت کا استعمال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اگر انسانی جانوں کو نظرانداز کرنے والے ایسے سفاکانہ اقدامات کی مذمت اور روک تھام نہ کی گئی تو انسانی تہذیب کی حقیقی بنیادیں مسلسل کمزور ہوتی جائیں گی۔
بین الاقوامی برادری کو فوری اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ایسے یکطرفہ فوجی اقدامات کو روکا جا سکے، بین الاقوامی قانون اور تعلقات کے اصولوں کی اتھارٹی کو برقرار رکھا جائے، اور ایک مستحکم، منصفانہ اور قابل پیش گوئی بین الاقوامی نظام کا تحفظ کیا جا سکے۔ شہریوں، تعلیمی اداروں اور بچوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی سخت ترین مذمت ہونی چاہیے اور ذمہ داروں کا احتساب قانون کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker